لڑکی کو لڑکے کی بڑی بہن نے دودھ پلایا ہے، اب ان کا آپس میں رشتہ ہو رہا ہے ،کیا ان کا رشتہ ہو سکتا ہے؟
لڑکی کو مدتِ رضاعت میں جب لڑکے کی بہن نے دودھ پلایا، تو ایسا کرنے سے وہ اس کی رضاعی بیٹی اور لڑکے کی رضاعی بھانجی بن گئی ، اور جس طرح حقیقی بھانجی سے نکاح کرنا جائز نہیں، اسی طرح رضاعی بھانجی سے بھی نکاح کی شرعاً اجازت نہیں۔
كما في صحيح مسلم للنيسابوري: 3652 - حدثنا قتيبة بن سعيد حدثنا ليث ح وحدثنا محمد بن رمح أخبرنا الليث عن يزيد بن أبى حبيب عن عراك عن عروة عن عائشة أنها أخبرته أن عمها من الرضاعة - يسمى أفلح - استأذن عليها فحجبته فأخبرت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال لها « لا تحتجبى منه فإنه يحرم من الرضاعة ما يحرم من النسب ». (4/ 164)۔
و في الفتاوى الهندية: وأخو المرضعة خاله وأختها خالته وكذا في الجد والجدة اھ (1/ 343)۔