نکاح

رضاعی بھانجی سے نکاح کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
41765
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

رضاعی بھانجی سے نکاح کرنے کا حکم

لڑکی کو لڑکے کی بڑی بہن نے دودھ پلایا ہے، اب ان کا آپس میں رشتہ ہو رہا ہے ،کیا ان کا رشتہ ہو سکتا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

لڑکی کو مدتِ رضاعت میں جب لڑکے کی بہن نے دودھ پلایا، تو ایسا کرنے سے وہ اس کی رضاعی بیٹی اور لڑکے کی رضاعی بھانجی بن گئی ، اور جس طرح حقیقی بھانجی سے نکاح کرنا جائز نہیں، اسی طرح رضاعی بھانجی سے بھی نکاح کی شرعاً اجازت نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في صحيح مسلم للنيسابوري: 3652 - حدثنا قتيبة بن سعيد حدثنا ليث ح وحدثنا محمد بن رمح أخبرنا الليث عن يزيد بن أبى حبيب عن عراك عن عروة عن عائشة أنها أخبرته أن عمها من الرضاعة - يسمى أفلح - استأذن عليها فحجبته فأخبرت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال لها « لا تحتجبى منه فإنه يحرم من الرضاعة ما يحرم من النسب ». (4/ 164)۔
و في الفتاوى الهندية: وأخو المرضعة خاله وأختها خالته وكذا في الجد والجدة اھ (1/ 343)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 41765کی تصدیق کریں
0     420
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات