نکاح

کیادورانِ عدت نکاح کرنا جائز ہے ؟

فتوی نمبر :
43324
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

کیادورانِ عدت نکاح کرنا جائز ہے ؟

میرے شوہر ایک شادی شدہ عورت سے نکاح کی خواہش رکھتے ہیں،اور اس عورت کے پہلے شوہر سے طلاق کے بعد عدت نہیں کرانا چاہتے،کیا یہ عمل شرعی لحاظ سے درست ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

عدت کے دوران کسی عورت سے نکاح کرنا جائز نہیں،اس طرح کیا ہوا نکاح شرعاً منعقد ہی نہیں ہوتا،تاہم عدت گزرنے کے بعد سائلہ کا شوہر مذکور خاتون سے شادی کرنا چاہے اور دونوں بیویوں کے نان نفقہ کا انتظام اور ان میں برابری بھی کرسکتا ہو تو دوسری شادی کرنا بھی جائز ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی رد المحتار: (قوله: ومنع غيره) أي غير الزوج في العدة لاشتباه النسب بالعلوق، فإنه لا يوقف على حقيقته أنه من الأول، أو الثاني، وهذا حكمة شرعية العدة في الأصل اھ(3/409)۔
وفی الفتاوی الھندیة: لا يحل للرجل أن يتزوج حرة طلقها ثلاثا قبل إصابة الزوج الثاني ولا أمة طلقها ثنتين اھ(1/282)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 43324کی تصدیق کریں
0     575
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات