میرے شوہر ایک شادی شدہ عورت سے نکاح کی خواہش رکھتے ہیں،اور اس عورت کے پہلے شوہر سے طلاق کے بعد عدت نہیں کرانا چاہتے،کیا یہ عمل شرعی لحاظ سے درست ہے؟
عدت کے دوران کسی عورت سے نکاح کرنا جائز نہیں،اس طرح کیا ہوا نکاح شرعاً منعقد ہی نہیں ہوتا،تاہم عدت گزرنے کے بعد سائلہ کا شوہر مذکور خاتون سے شادی کرنا چاہے اور دونوں بیویوں کے نان نفقہ کا انتظام اور ان میں برابری بھی کرسکتا ہو تو دوسری شادی کرنا بھی جائز ہے۔
کما فی رد المحتار: (قوله: ومنع غيره) أي غير الزوج في العدة لاشتباه النسب بالعلوق، فإنه لا يوقف على حقيقته أنه من الأول، أو الثاني، وهذا حكمة شرعية العدة في الأصل اھ(3/409)۔
وفی الفتاوی الھندیة: لا يحل للرجل أن يتزوج حرة طلقها ثلاثا قبل إصابة الزوج الثاني ولا أمة طلقها ثنتين اھ(1/282)۔