كيافرماتے هيں علماءِدین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ هماراگاؤں جس کانام ’’شادیزئی‘‘ هے یہ دوگاؤں پرمشتمل هے :(۱) شادیزئی (۲) مونزئی ۔دونوں کی آبادی بالکل متصل هے ،اس گاؤں میں نماز ِجمعہ پڑھنے کاکیاحکم هے جبکہ:
1.دونوں گاؤں کی کل آبادی لگ بھگ بارہ هزار نفوس پرمشتمل هے اور تقریباً ۷۰۰ گھرهیں ۔
2.دونوں گاؤں میں کل چھوٹی بڑی آٹھ مساجد هیں ،سب سے بڑی مسجد کارقبہ [۱] اندرونی هال 90X45فٹ ،دس صف[۲] برآمدہ 90X14فٹ ،تین صف [۳] صحن 90X45 فٹ ،دس صف ۔
3.اس بڑی مسجد میں گاؤں کے سارے لوگ نهیں سماسکتے۔
4.گاؤں میں ایک سرکاری هسپتال اور تین چارمیڈیکل اسٹورهیں ۔
5.ایک هائی اسکول ،ایک مڈل اسکول ،ایک پرائمری اسکول سرکاری هےجبکہ تین پرائیوٹ اسکول اور تین لڑکوں کے مدرسے اور چھ سات لڑکیوں کے چھوٹے چھوٹے مدرسے هیں ۔
6.گاؤں میں ضرورت کی ساری چیزیں مل جاتی هیں البتہ بازار کی شکل نهیں هے ،دکانیں بهت هیں لیکن الگ الگ هیں ۔
7.ٹیلی فون ،گیس اوربجلی کی سهولیات میسرهیں سڑکیں اورگلیاں اکثر پکی هیں ،موبائل کمپنی کابوسٹر(كھمبا) بھی هے ۔
8.گاؤں میں تھانہ یاپولیس چوکی نهیں هے البتہ گاؤں سے ۵کلومیٹرکے فاصلے پرهماری تحصیل هے جس میں لیویز تھانہ هے سرکاری دفاتر هیں هرطرح کی چھوٹی بڑی دکانیں هیں وهاں جمعہ کی نماز بھی هوتی هے ۔
9.همارے گاؤں اور تحصیل کے درمیان آبادی متصل نهیں هے۔
ان تمام تفصیلات کودیکھتے هوئے بتائیں :
[۱] همارے گاؤں پرقریہ کی تعریف صادق آتی هے یامصرکی؟
[۲] همارے گاؤں میں نماز جمعہ پڑھنا واجب هے یاصرف جائز؟
برائے مهربانی جواب باحوالہ مدلل، مبرهن ومفصل دیں تاکہ مقامی علماء کی بھی شرح صدرهوجائے ۔والسلام
المستفتی کمیٹی برائے مسجد شادیزئی
تحصیل سرانان ضلع پشین بلوچستان
واضح ہو کہ اصل یہ ہیکہ گاؤں میں جمعہ صحیح نہیں، جبکہ شہر اور قصبات میں صحیح ہے، اور قصبہ کی تعریف ہمارے عُرف میں یہ ہیکہ جہاں آبادی چار ہزار کے قریب یا اس سے زیادہ ہوں، اور وہاں ایسا بازار موجود ہو، جس میں دوکانیں چالیس، پچاس متصل ہوں، اور بازار روزانہ لگتا ہو، اور اس بازار میں ضروریاتِ روزمرہ کی تمام اشیاء ملتی ہوں، مثلاً جوتا کی دوکان، کپڑے کی ، عطر کی، درزی کی، غلہ کی، دودھ، گھی کی ، اور وہاں ڈاکٹر و حکیم وغیرہ بھی ہوں، اسی طرح وہاں ڈاکخانہ بھی ہو اور پولیس کا تھانہ یا چوکی بھی ہو، اس کے ساتھ ساتھ اس میں مختلف محلے مختلف ناموں سے موسوم ہوں، پس جس بستی میں یہ شرائط موجود ہوں وہاں جمعہ صحیح ہوگا ورنہ صحیح نہ ہوگا، بلکہ اس صورت میں ظہر کے فرض کا ترک اور نوافل کی جماعت کا اہتمام لازم آئیگا جو بلاشبہ ممنوع اور گناہ ہیں۔
چنانچہ سائل نے سوال میں مذکور مقام کے متعلق جو تفصیل ذکر کی ہے، اس سے بظاہر مذکور مقام کا قصبہ اور قریہ کبیرہ کی تعریف میں داخل ہونا معلوم ہورہا ہے، اور ایسے مقام پر جمعہ کا قیام درست ہے، تاہم مذکور مقام پر باقاعدہ جمعہ شروع کرنے سے قبل مقامی علماءِکرام سے مشاورت کرنے کے بعد کوئی فیصلہ کرنا چاہئیے ۔
كما فى الهندية: (ولأدائها شرائط في غير المصلي) . منها المصر هكذا في الكافي، والمصر في ظاهر الرواية الموضع الذي يكون فيه مفت وقاض يقيم الحدود وينفذ الأحكام وبلغت أبنيته أبنية منى، هكذا في الظهيرية وفتاوى قاضي خان.
وفي الخلاصةوعليه الاعتماد، كذا في التتارخانية ومعنى إقامة الحدود القدرة عليها، هكذا في الغياثية.
وكما يجوز أداء الجمعة في المصر يجوز أداؤها في فناء المصر وهو الموضع المعد لمصالح المصر متصلا بالمصر ومن كان مقيما بموضع بينه وبين المصر فرجة من المزارع والمراعي نحو القلع ببخارى لا جمعة على أهل ذلك الموضع وإن كان النداء يبلغهم والغلوة والميل والأميال ليس بشيء هكذا في الخلاصة. (الى قوله) ومن لا تجب عليهم الجمعة من أهل القرى والبوادي لهم أن يصلوا الظهر بجماعة يوم الجمعة بأذان وإقامة اه (145/1).
وفي الشامية: ما صرح به في التحفة عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث وهذا هو الأصح ، اهـ (137/2)-
وفي الهداية لا تصح الجمعة إلا في مصر جامع أو في مصلى المصر ولا تجوز في القرى " لقوله عليه الصلاة والسلام " لا جمعة ولا تشريق ولا فطر ولا أضحى إلا في مصر جامع " والمصر الجامع كل موضع له أميروقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود، اهـ (82/1)-