زید اپنے گھر کا واحد کفیل ہے اور اس کا کوئی مستقل روزگار بھی نہیں ہے، لیکن وہ ایک سال تبلیغ پر جانے کے لیے بضد ہے، اس کی تبلیغی مصروفيات کی وجہ سے اس کا گھرانہ پہلے سے ہی مالی مشکلات کا شکار ہے، آپ سے التماس ہے کہ شریعتِ مطہرہ بالخصوص اسلام کے عائلی حقوق کے تناظر میں زید کے اس عمل کے بارے میں راہ نمائی فرمائیں کہ آیا یہ درست طرز ِعمل ہے؟ کیا ایسا تبلیغی سفر جائزہے، جس سے عائلی حقوق میں رخنہ پڑتا ہو؟
تبلیغ میں نکلنا سال لگانا یا اس سے کم و بیش اوقات لگانا تو بڑی سعادت کی بات ہے، لیکن اس ترتیب کے مطابق وقت لگانا کوئی لازم اور ضروری نہیں، جب کہ اپنے زیرِ کفالت افراد(والدین بیوی، بچے) کیلئے خرچ و اخراجات کا معقول انتظام کر نا شرعاً لازم اور ضروری ہے، اس لئے اس مشن پر نکلنے سے پہلے اپنے زیر کفالت افراد(والدین، بیوی، بچے)کے لئے خرچ و اخراجات کا معقول انتظام کر نالازم ہے اور اس کا معقول انتظام کیے بغیر تبلیغ میں نکلنا بجائے اجر کے موجبِ گناہ ہوگا، لہٰذازید کیلئے اپنے زیرِ کفالت افراد کے خرچ واخراجات کا مناسب انتظام کر کے نکلنا چاہیے۔
كما في التنزيل العزیز: {كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللّٰهِ ۔ الآیة} [آل عمران: 110]
وفي الهندية: ]الفصل الأول في نفقة الزوجة[ تجب على الرجل نفقة امرأته المسلمة والذمية والفقيرة والغنية دخل بها أو لم يدخل كبيرة كانت المرأة أو صغيرة يجامع مثلها كذا في فتاوى قاضي خان سواء كانت حرة أو مكاتبة كذا في الجوهرة النيرة۔ (1/544)
وفيها أیضاً: ]الفصل الرابع في نفقة الأولاد[ نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كذا في الجوهرة النيرة (إلى قوله) وبعد الفطام يفرض القاضي نفقة الصغار على قدر طاقة الأب وتدفع إلى الأم حتى تنفق على الأولاد، فإن لم تكن الأم ثقة تدفع إلى غيرها لينفق على الولد اھ (1/ 560)