السلام علیکم!
حضرت ہمارے ادارے کے ساتھ ہی تقریباً ڈیڑھ کلو میٹر پر بازار ہے اور دیگر ضروریات بھی دستیاب ہیں،جوکہ جمعہ کی شرائط میں شامل ہیں،وہاں کچھ مساجد میں جمعہ ادا کیا جاتا ہے،حالیہ دنوں میں سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ادارے کی طرف سے جمعے کے لئے سختی کی گئی ہے کہ جمعہ کی نماز یہی ادا کی جائے،اگر جمعے کی شرائط کو دیکھوں تو ساتھ ہی شہر وقصبہ بھی ہے،امام کے علاوہ نمازی بھی کافی تعداد میں ہوجاتے ہیں،نماز ادا کرنے والوں کو کوئی نمازی روکتا بھی نہیں ہے،لیکن نمازی ہمارے ادارے کے ہی لوگ ہیں تو کیا ان حالات میں یہاں جمعہ کی نماز ادا کی جاسکتی ہے؟
مذکور ادارہ اگر شہر یا شہر کے مضافات میں واقع ہو اور باہر کے لوگوں کو فقط سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر نماز پڑھنے کے لئے ادارہ میں آنے کی اجازت نہ دی جاتی ہو تو مذکور ادارے کی مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کرنا جائز ہوگا۔
کمافی الدر المختار: (و) السابع: (الإذن العام) من الإمام، وهو يحصل بفتح أبواب الجامع للواردين كافي فلا يضر غلق باب القلعة لعدو أو لعادة قديمة لأن الإذن العام مقرر لأهله وغلقه لمنع العدو لا المصلي (2/ 151)۔
وفی مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر: (والإذن العام) وهو أن يفتح أبواب الجامع للواردين قالوا: السلطان إذا أراد أن يصلي بحشمه في داره فإن فتح الباب وأذن إذنا عاما جازت الصلاة ولكن يكره وإلا لم يجز كما في الكافي وما لا يقع في بعض القلاع من غلق أبوابه خوفا من الأعداء أو كانت له عادة قديمة عند حضور الوقت فلا بأس به لأن إذن العام مقرر لأهله ولكن لو لم يكن لكان أحسن كما في شرح عيون المذاهب. (1/ 246)۔