السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
محترم مفتی صاحب ہمیں نماز جمعہ سے متعلق رہنمائی کی ضرورت ہے،میری ملازمت آئل،گیس کی کمپنی میں ہے،جس کا ایک پلانٹ صوبہ سندھ کے صحرائی علاقہ میں لگا ہوا ہے،جس میں 100 سے 150 ملازم رہتے ہیں،یہاں سے قریبی آبادی کم وبیش 8 کلو میٹر دور ہے،وہاں آبادی میں ایک مسجد ہے جس کے اردگرد 7/8 گھر ہیں،ایک زرعی ادویات کی اور ایک کریانہ کی دوکان ہے،ہمارے کچھ ساتھی کمپنی کی گاڑی لے کر وہاں جمعہ پڑھنے جاتے ہیں،لیکن کچھ ساتھی کہتے ہیں کہ فاصلے کی وجہ سے ہم پر جمعہ فرض نہیں ہے،ہمارے جو سرکاری امام صاحب ہیں وہ بھی ہمارے ساتھ ظہر ادا کرتے ہیں،بیان کردہ حالات اور فاصلے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہمیں اپنے کیمپ میں ظہر کی نماز باجماعت ادا کرنی چاہئیے ،یا جمعہ کی نماز پر جانے کی کوشش کرنی چاہئیے ؟ اور جو ساتھی جمعہ کی نماز ادا کرتے ہیں،ان کا جمعہ ہوجاتا ہے یا انہیں دوبارہ ظہر کی نماز ادا کرنی چاہئیے ؟ برائے مہربانی شریعت کے احکامات کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔جزاک اللہ !
مذکور پلانٹ چونکہ نہ شہر میں واقع ہے اور نہ ہی قصبہ میں اورجہاں جمعہ کی نماز کی ادائیگی ہورہی ہے،وہ بھی مذکور مقام سے کافی فاصلہ پر واقع ہے،لہذا سائل اور اس کے ساتھ کام کرنے والے دیگر ملازمین پر جمعہ کی نماز لازم نہیں ،بلکہ ان پر جمعہ کے دن بھی ظہر کی نماز ادا کرنا لازم ہوگا،جبکہ سائل نے سوال میں مذکور آبادی کی جو تفصیل ذکر کی ہے جوکہ سات آٹھ گھرانوں پر مشتمل ہےجوکہ شہر یا قصبہ کے حکم میں داخل نہیں،لیکن مذکور آبادی اگر کسی شہر کے مضافات میں واقع ہو،جس کی وجہ سے وہاں جمعہ کی ادائیگی ہورہی ہوتو ایسی صورت میں سائل کے جن ساتھیوں نے وہاں جمعہ کی نماز ادا کی ہے،ان کی نماز ادا ہوچکی ہے،ان کے ذمہ ظہر کی نماز کا اعادہ لازم نہیں تاہم اگر سوال کی نوعیت کچھ اور ہوتو اس کی مکمل تفصیل لکھنے کے بعد حکم ِشرعی معلوم کیا جاسکتا ہے۔
کمافی الدر المختار: (ويشترط لصحتها) سبعة أشياء:
الأول: (المصر وهو ما لا يسع أكبر مساجده أهله المكلفين بها) وعليه فتوى أكثر الفقهاء مجتبى لظهور التواني في الأحكام وظاهر المذهب أنه كل موضع له أمير وقاض يقدر على إقامة الحدود كما حررناه فيما علقناه على الملتقى.(2/ 137)۔
وفی رد المحتار: عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث وهذا هو الأصح اهـ (2/ 137)۔