کیا فرماتے ہیں مفتیانِ عظام اس بارے میں کہ بندہ نے ایک شخص سے قرضہ مانگا اس نے کہا کہ یہ زکوٰۃ کی رقم میں آپ کو دیتا ہوں تو کیا یہ زکوٰۃ میرے لئے جائز ہے جبکہ میری ملکیت میں ایک گھر اور ایک ٹیکسی اور روزانہ کی محنت 250 روپے ہے اور میں نے گھر بنانے کیلئے کسی سے 60 ہزار قرضہ بھی لیا ہے جس کی ادائیگی ابھی تک ممکن نہیں ہوئی تو کیا میرے لئے زکوٰۃ کا لینا جائز ہے؟
نوٹ: میرے چھ بچے ہیں ان میں صرف ایک بچہ کماتا ہے جو تقریباً ماہانہ چھ ہزار کے لگ بھگ ہے اور میری کمائی بھی روزانہ کے حساب سے 250 روپے تک ہوتی ہے جس سے گھر کے تمام اخراجات پورے کرتا ہوں۔
اگر سائل سید نہ ہو اور صورتِ مسئولہ کا بیان بھی حقیقت پر مبنی ہو تو اس کیلئے زکوٰۃ کی مد سے معاونت لینا شرعاً بھی جائز اور درست ہے۔
فی الدر: مصرف الزکاة والعشر ھو فقیر وھو من لہ أدنی شیٔ) أی دون نصاب أو قدر نصاب غیر نام مستغرق فی الحاجة. اھـ (ج۲، ص۳۳۹)
وفی الھندیة: الباب السابع فی المصارف: منھا الفقیر وھو من لہ ادنی شیٔ وھو ما دون النصاب أو قدر نصاب غیر نام وھو مستغرق فی الحاجة فلا یخرجہ عن الفقر ملک نصب کثیرة إذا کانت مستغرقة بالحاجة کذا فی فتح القدیر. اھـ (ج۱، ص۱۸۷) واللہ اعلم بالصواب
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0