کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس بارے میں کہ فیکٹری کی عارضی مسجد ،جس میں کوئی مستقل امام نہیں ،فقط ظہر کی نماز ادا کی جاتی ہے ، صرف وقت کے ضیاع سے بچنے کیلئے ایسی مسجد میں نمازِ جمعہ پڑھنا جائز ہے ؟ کیا جواز کی صورت میں وہ تمام فضائل جو جمعہ کی نماز کو حاصل ہیں نمازیوں کو حاصل ہوں گے ؟ اس مسجد کو چھوڑ کر دوسری جامع مسجد میں جاکر جمعہ پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ جانا چاہیئے یا نہیں؟
حکومت نے جمعہ کی تعطیل ختم کرنے کے باوجود ،نمازِ جمعہ کے وقت تمام کاروبار بند رکھنے کا کہا ہے ایسی صورت میں مالکوں کی اجازت کے بغیر جمعہ کی ادائیگی کیلئے جانا کیسا ہے؟
واضح رہے کہ ہماری فیکٹری کی مسجد میں باہر سے نماز یا جمعہ پڑھنے کوئی آتا ہے اور نہ ہی اجازت ہے اور نہ ہی وہ کوئی باقاعدہ مسجد ہے۔
واضح ہو کہ کسی مقام پر نمازِ جمعہ کی ادائیگی کیلئے پنج وقتہ نمازوں اور باقاعدہ جامع مسجد کا ہونا شرط نہیں، لہٰذا مذکور فیکٹری اگر شہر کے حدود یا مضافات میں واقع ہو تو اس میں نمازِ جمعہ ادا کرنا جائز ہے ، البتہ سوال میں مذکور عارضی مسجد سے مراد اگر فقط جائے نماز ہے ، مستقل وقف شدہ شرعی مسجد نہیں ہے تو اس میں نمازِ جمعہ یا دیگر نمازیں ادا کرنے سے فقط فرض ذمہ سے ادا ہوجائے گا ،فضائلِ نماز و جمعہ جو شرعی مسجد میں مسلمانوں کے ایک جمِ غفیر کے ساتھ نماز ادا کرنے سے حاصل ہوتے ہیں وہ اس جگہ حاصل نہیں ہوں گے۔
لہٰذا مذکور فیکٹری کے ملازمین اگر کسی مسجدِ شرعی میں مسلمانوں کے ایک بڑے مجمع کے ساتھ نمازِ جمعہ ادا کرنے کا اہتمام کریں تو یہ عمل ان کیلئے بہرصورت بہتر اور افضل ہے۔ واﷲ اعلم!