کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ:
ایک مسجد ہے محراب بھی نہیں، تو کیا وہ مصلّے کے حکم میں آتی ہے؟ وہاں نماز پانچ وقت کی جماعت کے ساتھ ہوتی ہے، ما سوائے جمعہ کے دن کے اور ہفتہ کی رات، کیونکہ اس دن چھٹی ہوتی ہے، جماعت میں نمازیوں کی تعداد دو سے لے کرآٹھ تک ہے، وہاں پر کام کرنے والوں کا اصرار ہے کہ، جمعہ بھی ہونا چاہیئے، جمعہ میں نمازیوں کی تعداد تقریباً دس سے لیکر پندرہ تک ہے، اور اس فیکٹری سے دو گلی کے فاصلے پر مسجد ہے، جس میں جمعہ ہوتا ہے، وہاں پر دو تین سو آدمی ہوتے ہیں، باہر سے آدمی نماز پڑھنے کیلئے نہیں آتے، کیونکہ قریب ہی میں جامع مسجد ہے، تو پوچھنا یہ ہے کہ وہاں پر جمعہ پڑھا جائے گا یا جمعہ پڑھنے والوں کو جامع مسجد میں جانا چاہئے؟ افضلیت کس میں ہے؟ وضاحت فرمادیں !
واضح ہو کہ نماز کیلئے باہر سے آنے والے حضرات کا فیکٹری میں داخلہ ممنوع ہے۔
صورتِ مسئولہ میں جس مسجد کا ذکر ہے، اگرچہ یہ مسجد شہر اور آبادی کے اندر ہے، مگر شرائطِ جمعہ میں اذنِ عام کے فوت ہونے کی بناء پر اس میں نمازِ جمعہ و عیدین کا قائم کرنا شرعاً درست نہیں، اور اگر فیکٹری کے مالکان باہر سے آنے والے حضرات کے داخلہ پر پابندی نہ لگائیں، بلکہ داخلہ کا اذنِ عام دے دیں اور اسی موجودہ مصلیٰ کی ہیئت کو بدل کر مسجدِ شرعی بنالیں، تب بھی دوسری جامع مسجد کے قریب ہونے کی بناء پر، مسجد مذکور میں نمازِ جمعہ کے ساتھ، نماز پڑھ کر کثرتِ جماعت کی بناء پر زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل کرے، اور یہ بھی اس مسجد میں مفقود ہے، جیسا کہ سوال سے واضح ہوچکا ہے، لہٰذا مسجدِ مذکور کے متعلقین کو چاہئے کہ ،اپنے قرب و جوار کے مساجد میں نمازِ جمعہ ادا کرنے کا اہتمام فرمائیں، اور اگر ان سب کے باوجود وہ اسی مسجد میں ادائیگی جمعہ و عیدین کا اہتمام کرلیں، تو نمازِ جمعہ کی ادائیگی میں تو شک نہیں ،البتہ غیر افضل ضرور ہوگا، اور جب ایک کام کرنا ہی ہے، تو اس کام کے کرنے کا جو طریقہ شرعی اعتبارسے افضل اور بہتر ہو ،اسے اختیارکرنا چاہیئے۔
ففی الفتاویٰ العالمگیریة: (ومنہا الاذن العام) وہو أن تفتح أبواب الجامع فیؤذن للناس کافة حتی ان جماعة لو اجتمعوا فی الجامع (ج۱،ص۱۴۸)واﷲ اعلم!