1) کیا فرماتے ہیں علماءِ دین ومفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جمعہ کے روز ،جمعہ کی نماز میں حضورﷺ سے کونسی سورتیں پڑھنا ثابت ہے؟
2) اگر کوئی امام جمعہ کی نماز میں اُن سورتوں کو کسی وجہ سے نہیں پڑھتا ہے تو کیا یہ امام تارکِ سنت کہلائےگا؟
3) جو لوگ امام کو مجبور کرتے ہیں کہ جو سورتیں آپﷺ سے جمعہ کو پڑھنا ثابت ہے اُنہی سورتوں کو پڑھیں اور نہ پڑھنے پر اس امام کو ملامت اور عتاب کا نشانہ بناتے ہیں اُن کا حکم کیا ہے؟ کیا اُن لوگوں کا مذکور طرزِ عمل اَز روئے شرع جائز ہے؟
اگرچہ حضور نبی کریمﷺ سے نمازِ جمعہ کے دوران سورۃ الجمعہ، سورۃ المنافقون، سورۃ الاعلیٰ اور سورۃ الغاشیۃ کا پڑھنا ثابت ہے اورسنت کی نیت سے ان کا پڑھنا باعثِ اجر وثواب بھی ہے اور انہی سورتوں کا اہتمام بھی چاہیۓ، تاہم کسی امام کو یہ یاد نہ ہوں یا بھولنے کا اندیشہ ہو یا وہ کبھی کبھار پڑھتا ہو تو ایسے امام کو کسی قسم کا گناہ بھی نہیں ہوگا، اس لۓ جو لوگ امام کو فقط انہی سورتوں کے پڑھنے پر مجبور کرتے یا زور دیتے ہیں وہ بلاوجہ ایک مستحب عمل کو واجب اور فرض کا درجہ دینے کی وجہ سے گناہ گار ہیں، بلکہ ایسی صورت حال میں تو ان سورتوں کا نہ پڑھنا زیادہ بہتر ہے، لہٰذا مقتدیوں کو اپنے مذکور غلط طرزِ عمل سے احتراز لازم ہے۔
فی الدر المختار: (ولا يتعين شيء من القرآن لصلاة على طريق الفرضية) بل تعين الفاتحة على وجه الوجوب (ويكره التعيين) كالسجدة و - {هل أتى} [الإنسان: 1]- لفجر كل جمعة، بل يندب قراءتهما أحيانا اھ وفی حاشية ابن عابدين: وهذا، وقيد الطحاوي والإسبيجابي الكراهة بما إذا رأى ذلك حتما لا يجوز غيره؛ أما لو قرأه للتيسير عليه أو تبركا بقراءته - عليه الصلاة والسلام - فلا كراهة لكن بشرط أن يقرأ غيرها أحيانا لئلا يظن الجاهل أن غيرها لا يجوز. (1/ 544)۔