محترم جناب حضرت مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بعد از سلام عرض ہے کہ میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں جس فیکٹری میں کام کرتا ہوں وہاں نماز باقاعدگی سے نہیں ہوتی، یعنی اس مسجد میں اگر چھٹی کا دن ہو تو کوئی نماز نہیں ہوتی، اسی طرح اکثر فجر کی نماز نہیں ہوتی اور اس سال عید الاضحیٰ کی چھٹی جمعہ کے دن تھی تو وہاں جمعہ بھی نہیں پڑھا گیا تھا اور اس فیکٹری کی مسجد میں باہر سے کوئی نماز پڑھنے نہیں آ سکتا، چاہے جمعہ کی نماز کیوں نہ ہوں، یعنی وہاں اذنِ عام نہیں تو آیا ان سب صورتوں کے ایسی مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھنا یا پڑھانا جائز ہے یا نہیں؟ براہِ مہربانی تفصیل سے جواب مرحمت فرمائیں۔ عین نوازش ہوگی
مذکور فیکٹری اگر شہر یا اس کے مضافات میں ہو اور باہر کے لوگوں کی ممانعت محض حفاظت کی غرض سے ہو تو ایسی صورت میں اذنِ عام نہ ہونا جمعہ سے مانع نہیں، اسی طرح صحتِ جمعہ کے لۓ کسی جگہ پنج وقتہ نمازوں کا باقاعدگی سے ہونا بھی ضروری نہیں، اس لۓ مذکور مقام پر نمازِ جمعہ کی ادائیگی جائز اور درست ہے۔
فی الدر المختار: تحت شروط الجمعة (و) السابع: (الإذن العام) من الإمام، وهو يحصل بفتح أبواب الجامع للواردين ،كافي فلا يضر غلق باب القلعة لعدو أو لعادة قديمة لأن الإذن العام مقرر لأهله وغلقه لمنع العدو لا المصلي، نعم لو لم يغلق لكان أحسن كما في مجمع الأنهر اھ وفی حاشية ابن عابدين: تحت (قوله: أو قصر) قلت: وينبغي أن يكون محل النزاع ما إذا كانت لا تقام إلا في محل واحد، أما لو تعددت فلا لأنه لا يتحقق التفويت كما أفاده التعليل تأمل اھ(2/ 152)۔