کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جمعۃ المبارک کی دو اذانیں دینا سنت ہے یا نہیں ہے؟اگر سنت ہے تو نبی کریمﷺ کے زمانے میں دی جاتی تھیں یا نہیں؟ براہِ کرم حدیث کی روشنی میں وضاحت فرما دیں۔
جمعہ کی دونوں اذانیں مسنون ہیں، مگر ایک براہِ راست سنتِ نبویﷺ اور دوسری بواسطہ خلیفہ راشد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سنتِ نبویﷺ ہے اور اس پر صحابہ و تابعین کا اجماع بھی ہے، اس لۓ دونوں کا اہتمام ازوروئے حدیث (علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المہدیین) لازم ہے۔
وفی صحيح البخاري: حدثنا محمد بن مقاتل،(إلی قوله) قال: سمعت السائب بن يزيد، يقول: «إن الأذان يوم الجمعة كان أوله حين يجلس الإمام، يوم الجمعة على المنبر في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأبي بكر، وعمر رضي الله عنهما، فلما كان في خلافة عثمان بن عفان رضي الله عنه، وكثروا، أمر عثمان يوم الجمعة بالأذان الثالث، فأذن به على الزوراء، فثبت الأمر على ذلك» اھ(2/ 9)۔