کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درجِ ذیل مسائل کے بارے میں کہ:
۱۔ اگر کوئی عالم جمعہ یا عیدین کا خطبہ غیر عربی میں مثلاً اردو، پشتو وغیرہ میں پڑھے تو اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
۲۔ نیز جبکہ اس نے مشروع مقدار عربی میں پڑھ لی اور اس کے بعد اردو، پشتو اشعار پڑھے تو اس کا حکم بھی مطلوب ہے۔
نبی کریم ﷺ اور صحابہ وتابعین سے باجود یکہ ان میں غیر عرب بھی تھے اور انہوں نے عرب کے علاوہ دوسرے ممالک میں بھی خطبات دیئے، ان میں سے کسی سے بھی غیر عربی میں خطبہ دینا منقول نہیں، اس لۓ خطبۂ جمعہ وعیدین اوّل سے لے کر آخر تک عربی میں پڑھنا ضروری ہے اور غیر عربی میں خطبہ دینا سنتِ متوارثہ کے خلاف ہونے کی وجہ سے مکروہِ تحریمی ہے اور یہی حکم اس میں اشعار پڑھنے کا بھی ہے۔
فی عمدة الرعایة: لا شك فی أن الخطبة بغیر العربیة خلاف السنة المتوارثة من النبی صلی اللہ علیه وسلم والصحابة فیکون مکروها تحریماً وکذا قراءۃ الأشعار الفارسیه والهندیة (۱/۲۴۲)۔