مفتی صاحب کیا حواجہ سرا دعوت و تبلیغ کا کام کرسکتا ہے ؟
اگر کسی خواجہ سرا میں مردوں کی علامات غالب ہوں تو وہ مردوں کے حکم میں ہو گا اور دیگر عام مردوں کی طرح اس کیلئے بھی تبلیغ کا کام کرنا جائز اور درست ہو گا، لیکن اگر اس میں عورتوں کی علامات غالب ہوں، تو یہ عورتوں کے حکم میں ہو گا اور اس صورت میں اس کیلئے عام مردوں کی طرح مردوں کے مجمع میں دعوت و تبلیغ کا کام کرنا جائز نہیں ہو گا، اگر اس میں مرد و عورت دونوں کی علامتیں برابر ہوں، جسے فقہی اصطلاح میں”خنثیٰ مشکل“کہا جاتا ہے، تو اس کے احکام ذکر کرنے میں فقہاءِ کرام - رحمہم اللہ تعالیٰ- نے چونکہ احتیاطی پہلو کو مدِ نظر رکھا ہے اور ایسے خواجہ سرا کو مردوں کے عام مجمع میں دعوت و تبلیغ کا کام سر انجام دینے میں فتنہ و فساد کا اندیشہ بھی ہے، اس لئے ایسے خواجہ سراوں کو عام مردوں کی طرح مردوں کے مجمع میں دعوت و تبلیغ کا فریضہ سر انجام دینے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
کما في البحر الرائق: قال - رحمه الله – (فإن بلغ وخرجت له لحية أو وصل إلى النساء فرجل وكذا إذا احتلم من الذكر)، لأن هذه من علامة الذكر. قال - رحمه الله – (وإن ظهر له ثدي أو لبن أو أمكن وطؤه فامرأة)، لأن هذه من علامات النساء قال - رحمه الله – (وإن لم تظهر له علامة أو تعارضت فمشكل)۔ اھ (8/539)
وفي الهندية: ]الفصل الثاني في أحكام الخنثى[
الفصل الثاني في أحكامه الأصل في الخنثى المشكل أن يؤخذ فيه بالأحوط والأوثق في أمور الدين وأن لا يحكم بثبوت حكم وقع الشك في ثبوته فإن وقف خلف الإمام قام بين صف الرجال والنساء فلا يتخلل الرجال حتى لا تفسد صلاتهم لاحتمال أنه امرأة ولا يتخلل النساء حتى لا تفسد صلاته لاحتمال أنه رجل، فإن قام في صف النساء يعيد صلاته احتياطا؛ لاحتمال أنه رجل وإن قام في صف الرجال فصلاته تامة ويعيد الذي عن يمينه وعن يساره ومن خلفه بحذائه صلاتهم احتياطا؛ لاحتمال أنه امرأة ويجلس في صلاته كجلوس المرأة، كذا في الكافي قال محمد - رحمه الله تعالى -: أحب إلي أن يصلي بقناع يريد به قبل البلوغ وإن صلى بغير قناع لا يؤمر بالإعادة إلا استحبابا، هذا إذا كان الخنثى مراهقا غير بالغ، أما إذا كان بالغا فإن بلغ بالسن ولم يظهر فيه شيء من علامة الرجال أو النساء لا تجزئه الصلاة بغير قناع إذا كان الخنثى حرا. اھ (6/438)