کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارا گاؤں بابا پیزه میک خیل چغرزئی ضلع بونیر جو کہ دوسو (200 ) گھرانوں پرمشتمل ہے، جس میں مجموعی طور پر 2141 افراد رہائش پذیر ہیں اس گاؤں میں ضروریات زندگی کے 80 فیصد اشیاء باآسانی دستیاب ہیں مثلاً مارکیٹس، ڈسپنسری، اقوام، سکول، وغیرہ ، اس کے علاوہ تحصیل دفتر 8 کلومیٹر، ڈاکخانہ 7 کلومیٹر، سرکاری ہسپتال 6 کلومیٹر، تھانہ 10 کلومیٹر کے مسافت پر ہیں، اس گاؤں میں مرکزی مسجد کے علاوہ پانچ مساجد میں جن میں نماز پنج گانہ باجماعت ادا ہوتی ہے، ہمارے گاؤں میں 20 فیصد ضروریات زندگی ایسی ہیں کہ جس کی یا تو ضرورت نہیں ہے یا باآسانی حاصل کی جاسکتی ہے، اس گاؤں میں نمازِ عیدین پچھلے کئی سالوں سے ادا کی جارہی ہے، لہذا ہمارے گاؤں والوں کا متفقہ اصرار ہےکہ ہمیں نمازِ جمعہ پڑھنے کی اجازت دی جائے ، ہمارے گاؤں کے متصل تین چھوٹے گاؤں بھی ہمارے نماز ِ جمعہ پڑھنےکے حق میں ہیں۔
نوٹ: اگر فتویٰ نمازِ عیدین کے ترک کی صورت میں آجائے تو شدید نزاع کاخطرہ موجود ہے ۔
واضح ہوکہ اصل یہ ہےکہ گاؤں میں جمعہ اور عیدین صحیح نہیں ،جبکہ شہر اور قصبات میں صحیح ہے، اور قصبہ کی تعریف ہمارے عرف میں یہ ہے کہ جہاں آبادی چار ہزار کے قریب یااس سے زیا دہ ہو ،اور وہاں ایسا بازار موجود ہو ،جس میں دوکانیں چالیس،پچاس متصل ہوں،اور بازار روزانہ لگتا ہو،اور اس بازار میں ضروریاتِ روز مرہ کی تمام اشیاء ملتی ہوں،مثلاً جوتے کی دوکان،کپڑے کی،عطرکی ،درزی کی،غلہ کی،دودھ گھی کی،اور وہاں ڈاکٹر ،حکیم وغیرہ بھی ہوں،اسی طرح وہاں ڈاکخانہ بھی ہو،اور پولیس کا تھانہ یا چوکی بھی ہو،اس کے ساتھ ساتھ اس میں مختلف محلے مختلف ناموں سے موسوم ہوں،پس جس بستی میں یہ شرائط موجود ہوں،وہاں جمعہ اور عیدین کی نماز درست ہوگی ورنہ نہیں،لہذا سوال میں مذکور گاؤں کے متعلق جوتفصیل ذکر کی گئی ہے،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکور گاؤں،شہر یا قصبہ اور قریہ کبیرہ کی تعریف میں داخل نہیں،چنانچہ مذکور گاؤں کی نوعیت اگر حقیقت میں بھی ایسی ہی ہو جو سوال سے واضح ہورہی ہے تو وہاں عندالاحناف جمعہ قائم کرنا درست نہیں،تاہم اس حوالے سے مقامی علماءکرام سے بھی مشاورت کی جائے تو بہتر ہوگا،جبکہ مذکور گاؤں میں اگر ایک عرصہ سے "عیدین"کی نماز کا اہتمام کیا جارہا ہو اور اب "عیدین"کی نماز کو موقوف کرنے میں فتنہ وفساد کا قوی اندیشہ ہو،تو ایسی صورت میں فتنہ وفساد سے بچنے کے لئے اگر عیدین کو باقی رکھا جائے تو اس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔
ففی الھدایة: لاتصح الجمعة الا فی مصر جامع اؑو فی مصلی المصر ولا تجوز فی القری(الی قولہ)بل تجوز فی جمیع اؑفنیة المصر لانھا بمنزلتہ فی حوائج اھلہ۔اھ(1/82)۔
وفی ردالمحتار: عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث وهذا هو الأصح اهـ(2/137)۔