محترم مفتی صاحب! نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے سلسلہ میں آپ کی رائے کی اشد ضرورت ہے، جو قرآن وحدیث کی روشنی میں اور حوالہ کے ساتھ عنایت فرمائیں ۔
1. عرصہ تین سال سے ایک چھوٹی سی مسجد ہے جس میں پانچ وقت نماز با جماعت نہیں ہو رہی تھی ، مگر اب کچھ عرصے سے با جماعت کی ادائیگی کی جارہی ہے ۔
2. وہ ایک ادارے میں واقع ہے جو ایک بستی سے تقریباً دو کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ۔
3. ہم جہاں کام کرتے ہیں، وہاں تقریباً ۲۵۰ لوگ کام کرتے ہیں ، اور سیکیورٹی کے پیشِ نظر کوئی سائٹ سے باہر نہیں جا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی باہر سے اندر آ سکتا ہے ۔
4. سائٹ میں ہماری ضروریاتِ زندگی کی تمام چیزیں مہیا ہیں ، ہمیں باہر جانے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔
جنابِ محترم! آپ سے التماس ہے کہ ہمیں فتویٰ جاری کر یں کہ ہم کیا اپنی مسجد میں جمعہ مبارک کی نماز ادا کر سکتے ہیں؟ آپ کی مہربانی ہوگی۔
نوٹ : یہ بستی سے باہر تقریباً دو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ایک سرکاری ادارہ ہے، جس میں تقریباً ڈھائی سو (۲۵۰) افراد کام کرتے ہیں ، اور اس ادارے کی حدود میں نہ کسی کو آنے دیتے ہیں اور نہ ہی کسی کو وہاں سے باہر جانے کی اجازت ہے ، اور مذکور مسجد بھی اس ادارے کی حدود کے اندر واقع ہے ، اس مسجد میں صرف اس ادارے کے لوگ نماز پڑھتے ہیں۔
واضح ہو کہ نماز جمعہ کی صحت اور وجوب کےلۓ شہر ، قصبہ یا قریہ کبیرہ ( بڑا گاؤں جہاں جو از جمعہ کی شرائط موجود ہوں ) کا ہونا شرط ہے ، صورتِ مسئولہ میں جس سرکاری ادارے کا ذکر ہے وہ نہ شہر میں واقع ہے، نہ قصبہ اور قریہ کبیرہ میں،جیسا کہ سوال کے اسلوب سے بھی معلوم ہو رہا ہے ، اس لۓ وہاں جمعہ کی نماز پڑھنا شرعاً جائز نہیں ہے ، لہٰذا اس موضع میں جمعہ کے بجائے نمازِ ظہر باجماعت پڑ ھنالازم ہے ، ورنہ نمازِ ظہر کا ترک اور نفل کی جماعت کا اہتمام لازم آئے گا جو ناجائز ہے ۔
فی حاشية ابن عابدين: وفي الخانية المقيم في موضع من أطراف المصر إن كان بينه وبين عمران المصر فرجة من مزارع لا جمعة عليه وإن بلغه النداء وتقدير البعد بغلوة أو ميل ليس بشيء هكذا رواه أبو جعفر عن الإمامين وهو اختيار الحلواني وفي التتارخانية ثم ظاهر رواية أصحابنا لا تجب إلا على من يسكن المصر أو ما يتصل به فلا تجب على أهل السواد ولو قريبا وهذا أصح ما قيل فيه اهـ (2/ 153)۔
وفیہ ايضاً: وفي المعراج عن المجتبى من لا تجب عليهم الجمعة لبعد الموضع صلوا الظهر بجماعة اھ(2/157)۔