کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص اپنی مقامی مسجد میں باقاعدگی کے ساتھ جمعۃ المبارک کی نماز پڑھتا ہے ، جب مسجد کے خطیب صاحب سنتوں کے پڑھنے کی اجازت دیتے ہیں تو وہ شخص بھی سنتیں پڑھنے کے لۓ کھڑا ہو جاتا ہے اور ہمیشہ ہر جمعہ کو خطبہ سے پہلے تین رکعت پوری کر لیتا ہے ایک یا دو رکعت خطبہ شروع ہونے کے بعد پوری کرتا ہے اور بطورِ عذر بیماری کا کہتا ہے کبھی کہتا ہے جلدی پڑھنے سے میری نماز خراب ہوتی ہے، یہ مسئلہ اس کے ساتھ دائمی ہے اور وہ شخص بھی جانتا ہے آیا ایسا شخص خطبہ کو شروع ہونے سے پہلے سنتیں پڑھے یا فرض نماز کے بعد پڑھے؟
(ب ) اگر عادت سے ایسا کرتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟
(ج) اگر اپنی بیماری کو اس کے لۓ عذر بناتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟
(د ) وہ شخص جو یہ کام کرتا ہے واقعی با شرع اور دیندار قسم کا ہے، اس کے اس عمل کی وجہ سے اور لوگوں کے سامنے بھی خطبے کی اہمیت پر اثر پڑتا ہے اور شریعت کی رُو سے ایسے آدمی کو کیا طریقہ استعمال کرنا چاہیۓ؟براہِ کرم جواب تفصیل کے ساتھ بحوالہ عطا فرمائیں۔
شخص مذکور کو چاہیۓ کہ جو وقت سنتوں کے لۓ دیا جاتا ہے، اس میں ہی مختصر قرأت کیساتھ سنتوں کا اہتمام کرے اور اگر کسی عذر کی بناء پر وہ ایسا کرنے سے عاجز ہو تو اردو تقریر سے قبل سنتیں پڑھنے کا اہتمام کرے تا کہ دورانِ خطبہ نماز پڑھنے سے دوسرے لوگوں کی توجہ میں خلل نہ پڑھے اور خود بھی خطبہ سننے سے محروم نہ ہو ، جبکہ ایسے موقع پر عادۃً قرأت لمبی کرنا یا تاخیر کرنا بری حرکت ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
وفی الدر المختار: (إذا خرج الإمام) من الحجرة إن كانت وإلا فقيامه للصعود شرح المجمع (فلا صلاة ولا كلام إلى تمامها) (إلی قوله) ولو خرج وهو في السنة أو بعد قيامه لثالثة النفل يتم في الأصح ويخفف القراءة اھ (2/ 158)۔