محترم مفتی صاحب، السلام علیکم!
میں ایک ایسے ادارے میں کام کرتا ہوں ، جہاں پر عام لوگوں کی آمدورفت نہیں ہے، شہر بھی فاصلہ پر ہے، تقریباً ۸ کلومیٹر اور ساتھ میں کوئی آبادی بھی نہیں ہے، ہم لوگ صبح آتے ہیں اور شام ۴ بجے چھٹی کر کے چلے جاتے ہیں، جو مسجد ہے وہاں پانچ وقت کی نماز جماعت کے ساتھ روزانہ ادا نہیں کی جاتی ، مگر جمعہ کے دِن جمعہ کی نماز پڑھائی جاتی ہے، کچھ لوگ جمعہ پڑھتے ہیں کچھ نہیں، آپ حضرات کی رائے چاہیۓ کہ ہم وہاں جمعہ پڑھا کریں یا ظہر کی نماز ادا کیا کریں؟
قرآن وسنت کی روشنی میں کسی جگہ صحتِ جمعہ کے لۓ شہر یا قصبہ اور بڑا گاؤں ہونا شرط ہے، جبکہ صورتِ مسئولہ میں مذکور فیکٹری نہ شہر میں ہے اور نہ ہی وہاں آبادی اور نہ ہی اہلِ شہر کی ضروریات اس سے متعلق ہیں، اس لۓ اس میں جمعہ کے دن قیامِ جمعہ کی بجائے نمازِ ظہر کی ادائیگی لازم ہے، ورنہ جمعہ کے نام سے نوافل کی جماعت اور ظہر کے فرض کا ترک لازم آئےگا، جو بہت بڑا گناہ ہے۔
فی الدر المختار: (ويشترط لصحتها) سبعة أشياء: الأول: (المصر وهو ما لا يسع أكبر مساجده أهله المكلفين بها) وعليه فتوى أكثر الفقهاء اھ (2/ 137)۔
وفي بدائع الصنائع : وأما الشرئط التی ترجع إلی غیر المصلی فخمسة فی ظاهر الروایات، المصر (اإلی قوله) اما المصر الجامع فشرط وجوب الجمعة ، وشرط صحة ادائها عند اصحابنا حتى لا تجب الجمعة الا على اهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه ، وكذا لا يصبح اداء الجمعة الا في المصر وتوابعه فلا تجب على أهل القرى التي ليست من توابع المصر ولا يصح اداء الجمعة فيها(اإلی قوله) ولنا ما روی عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «لا جمعة ولا تشريق إلا في مصر جامع»و عن علي رضی اللہ عنہ «لا جمعة، ولا تشريق، ولا صلاة فطر ولا أضحى، إلا في مصر جامع وکذا النبی صلی اللہ علیه وسلم کان یقیم الجمعة باالمدینة وما روی الإقامة حولها وکذا الصحابة رضی اللہ عنهم فتحوا البلاد وما نصبوا المنابر إلا فی الأمصار فکان ذلك إجماعاً اھ (۱/ ۲۵۹)۔