کیافرماتے ہیں مفتیانِ کرام ان مسائل کے بارے میں کہ!
1۔ جمعہ کے دن احتیاطاً ظہر پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟اگر جائز ہے تو اسکی کیا دلیل ہے ؟ کچھ لوگ جمعہ کے دن احتیاطاً ظہر پڑھ لیتے ہیں،کیا یہ اہلسنت کے نزدیک جائز ہے؟
2۔نبی کریم ﷺ کا میلاد منانا جائز ہے یا نہیں ؟ جو لوگ یہ دن مناتے ہیں ان کے پاس شرعی کیا دلیل ہے؟
3۔امام مہدی علیہ الرضوان کے ظہور کے کیا دلائل ہیں؟
(1) واضح ہو کہ جس جگہ کو مفتیٰ بہ قول کے مطابق ادائیگیِ جمعہ کا محل قرار دیا گیا ہو ،(جیسے شہر اور قصبہ ) وہاں جمعہ ہی ادا کرنا لازم ہے،وہاں احتیاطاً ظہر پڑھنا شرعا ًجائز نہیں ہے،اور جس جگہ کو جمعہ کی ادائیگی کا محل قرار نہ دیا گیا ہو ،جیسے بہت چھوٹا گاؤں وہاں ظہر کی نماز ہی ادا کی جائے گی،نماز جمعہ قائم کرنا شرعا ًجائز نہیں۔
(2) جاننا چاہیئے کہ اولا ً تو حضورﷺکی ولادتِ مبارکہ کی تاریخ میں اختلاف ہے ،بعض حضرات نے 2 ربیع الاول ،بعض نے 8 ربیع الاول ،بعض نے 9 اور بعض نے 12 ربیع الاول کا قول نقل کیا ہے ،اسلئے 12 بارہ ربیع الاول ہی کو یہ دن منانا قرینِ قیاس نہیں ،پھر اگر یہ کوئی کارِخیر ہوتا تو خود نبی کریم ﷺ،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ،تابعین وتبع تابعین رحمہم اللہ ،جو امور ِخیر میں انتہائی حریص تھے ،وہ کبھی بھی اس کام میں پیچھے نہ رہتے ،حالانکہ نبوت ملنے کے تئیس (23) سال بعد تک خود آپ۔ﷺ۔ حیات رہے ،مگر نہ تو آپ۔ﷺ۔ نے اس دن کو منایا ،نہ خلفاءِ راشدین ۔رضوان اللہ علیہم اجمعین۔کے دور میں کبھی منایا گیا،اور نہ ہی تابعین وتبع وتابعین کے دور میں کبھی منایا گیا،پھر ایسا کام جسے خیر القرون میں باوجود فرصت کے نہ کیا گیاہو اسکو باعثِ ثواب سمجھ کر کرنا بلاشبہ بدعت ہے،جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئیں ہیں،جب کہ مذکور فعل میں قطعِ نظر بدعت ہونے کے ایسے امور کا ارتکاب کیا جاتاہے ،جو شرعاًجائز نہیں ،اسلئے یہ فعل واجب الترک ہے۔
(3) قرآن مجید میں امام مہدی کے ظہور کے متعلق کوئی آیت نہیں،البتہ احادیثِ مبارکہ میں اس کا تفصیلی ذکر ملتا ہے،چنانچہ ذیل میں چند احادیث مبارکہ نقل کی جاتی ہیں،ملاحظہ فرمائیں ۔
(1):حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپﷺنے فرمایا "مہدی" میری نسل یعنی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولادمیں سے ہونگے۔
(2):حضرت ابو سعید خدری نے حضور ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیاکہ مہدی میری نسل سے ہوں گے ،اور ان کی پیشانی کشادہ ہوگی،اور ناک ابھری ہوئی ہوگی ،اور زمین کو عدل اور انصاف سے ایسے بھر دیں گے ،جیسے وہ پہلے ظلم اور ناانصافی سے بھری ہوگی،اور وہ سات سال بادشاہت کریں گے ۔
(3):حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا :اگر دنیا کے ختم ہونے میں صرف ایک دن باقی رہ جائےتو اللہ تعالی اس دن کو لمبا کردیں گے یہاں تک کہ اللہ میری نسل سے یا فرمایا میرے اہلِ بیت سے ایک ایسے آدمی کو اٹھائیں گے جس کا نام میرے نام کے مشابہ ہوگا،اور جس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام کے مشابہ ہوگا۔
کمافی سنن ابن ماجۃ: عن عرباض بن ساریۃ ۔رضی اللہ عنہ۔ یقول : قام فینا رسول اللہ۔ﷺ۔(الی قولہا) فعلیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المہدیین عضوا علیھا بالنواجذ،ایاکم والامور المحدثات فان کل بدعۃ ضلالۃ۔(ص5)۔
وفیہ ایضا : عن خذیفۃ ۔رضی اللہ عنہ۔ قال: قال رسول اللہ ۔ﷺ۔لایقبل اللہ لصاحب بدعۃ صوما ولاصلوۃ ولاصدقۃ ولاحجا ولاعمرۃ ولاجہادا ولاصرفا ولاعدلا یخرج من الاسلام کما تخرج الشعرۃ من العجین۔(ص6)۔
وفی مشکوۃ المصابیح: عن عائشۃ ۔رضی اللہ عنھا۔ قالت: قال رسول اللہ ۔ﷺ۔ من احدث فی امرنا ھذا مالیس منہ فھو رد۔
وفیہ ایضا: عن جابر ۔رضی اللہ عنہ۔قال: قال رسول اللہ ۔ﷺ۔ اما بعد :فان خیر الحدیث کتاب اللہ وخیر الھدی ھدی محمد وشر الامور محدثاتھا وکل بدعۃ ضلالۃ۔رواہ مسلم۔(ص27)۔
وفی سنن ابی داؤد : عن ام سلمۃ رضی اللہ عنہا قالت : سمعت رسول اللہ ﷺ یقول : المہدی من عترتی من ولد فاطمۃ (4/107)۔
وفیہ ایضا: عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ قال : قال رسول اللہ ﷺ المہدی منی اجلی الجبہۃ واقنی الانف یملأ الارض قسطا وعدلا کما ملئت ظلما وجورا یملک سبع سنین(4/107)۔
وفی مرقاۃ المفاتیح: عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ ﷺ لا تذھب الدنیا حتی یملک العرب رجل من اھل بیتی یواطیء اسمہ اسمی ۔رواہ الترمذی وابو داؤد وفی روایۃ لہ :قال: لو لم یبق من الدنیا الا یوم لطول اللہ ذلک الیوم حتی یبعث اللہ فیہ رجلا منی او من اھل بیتی ،یواطیء اسمہ اسمی واسم ابیہ اسم ابی یملاء الارض قسطا وعدلا کما ملئت ظلما وجورا۔
قولہ:او من اھل بیتی :شک من الراوی ،ولفظ الجامع :حتی یبعث فیہ رجل من اھل بیتی ،واختلف فیہ انہ من بنی الحسن او من بنی حسین ،والاظہر انہ من جھۃالاب حسنی ومن جانب الام حسینی۔(9/349)۔
وفی الفتاویٰ الھندیۃ: ثم فی کل موضع وقع الشک فی جواز الجمعۃ بوقوع الشک فی المصر او غیرہ واقام اھلہ الجمعۃ ینبغی ان یصلوا بعد الجمعۃ اربع رکعات وینووابہا الظہر حتی لولم تقع الجمعۃ موقعھا یخرج عن عہدۃ فرض الوقت بیقین۔(1/145)۔