السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حضرت اپ خیریت سے ہوں گے حضرت اپ سے ایک معلومات لینی تھی کہ میں ایک ادارے میں ملازمت کرتا ہوں، وہاں پر ایک مسجد ہے وہاں پر مستقل بنیاد پر ظہر اور عصر کی نماز باجماعت ادا کی جاتی ہے اور مغرب کی کبھی کبھی ادا کی جاتی ہے اور عشاء کی اور فجر کی باجماعت نماز ادا نہیں کی جاتی، تو کیا اس ادارے میں یا اس مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھائی جا سکتی ہے اور وہ نماز ادا ہو جاتی ہے یا جمعہ کی نماز پڑھی جا سکتی ہے کہ نہیں ؟پلیز واضح فرما دیں تاکہ رہنمائی مل سکے ۔بہت شکریہ۔ جزاکم اللہ!
واضح ہو کہ کسی جگہ نماز جمعہ و عیدین کے قیام کےلیے پنچ وقتہ نماز با جماعت کا قیام ضروری نہیں، بلکہ اس جگہ کا شہر یا اس کے متصل ایسی آبادی کا ہونا شرط ہے، جس کی ضروریات زندگی شہر کے ساتھ یا شہر والوں کی اس کے ساتھ وابستہ ہوں (جسے اصطلاح فقہا میں فناءمصر سے تعبیر کیا جاتا ہے) لہذا مذکور ادارہ و مسجد بھی اگر ایسے مقام پر واقع ہو،تو اس میں نماز جمعہ کا قیام بلاشبہ جائز اور درست ہے، ورنہ احتراز لازم ہے۔
كما في اعلاء السنن: عن على انه قال " لا جمعة ، ولا تشريق إلا فى مصر جامع " (ابواب الجمعه ، ج ۸ ص ، و : ادارة القرآن)
وفى بدائع الضائع: واما الشرائط التي ترجع الى غير المصلى فخمسة فى ظاهر الروايات، المصر الجامع، والسلطان ، والخطبة ، والجماعة ، والوقت الخ (كتاب الجمعه ، ج ۲ ص ۱۹، ط: دار النشر ) -
وفي الدر المختار: (الإذن العام ) من الامام، وهو يحصل بفتح ابواب الجامع للواردین کافی فلا بضر غلق باب القلعة لعدد أو لعادة قديمة لأن الإذن العام مقرر الإهله وغلقه لمنع العدو لا المصلى (باب الجمعة،ج ۲ ص ۱۵، ط: سعید)