السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ !
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جمعہ کی پہلی اذان کے بعد خرید و فروخت کرنا جائز ہے ؟ اگر 2 بھائی کاروبار کرتے ہیں، ایک بھائی جلدی جمعہ پڑھ کر آجاتاہے، دوسرا کاروبار چلاتا ہے، پھر وہ آتا ہے تو پہلا جمعہ پڑھنے چلا جاتا ہے، یہ طریقہ صحیح ہے ؟ جبکہ ان کے محلہ کی مسجد میں ابھی جمعہ نہیں ہوا ہوتا، براہِ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔
واضح ہو کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اذانِ جمعہ کے وقت نماز کی تیاری کا حکم فرمایا ہے اور خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے، اس لئے جمعہ کی اذانِ اول ہوتے ہی کاروبار بند کرکے نمازِ جمعہ کی تیار ی میں لگنا شرعاً واجب ہے، اس دوران کاروبار کرتے رہنا اور دکان بند نہ کرنا شرعاً جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے، لہذا سوال میں ذکر کردہ طریقہ کار کے مطابق سائل کا دکان کھلی رکھنا شرعاً جائز نہیں ، بلکہ سائل کو چاہیئے کہ محلہ کی اذانِ اول کے بعد دکان بند کردے اور جمعہ کی نمازمکمل ہوجانے کے بعد دکان کھو لے ۔
کما فی فقہ البیوع : و قد شاع فی البلاد الیوم انھا تقام فی مواضع مختلفۃ فی اوقات مختلفۃ ، فھل یکرہ البیع عند الاذان الاول اینما کان فی البلد او عند الاذان فی اقرب مسجد للمتبایعین؟ قد اختلف فیہ و افتی شیخنا العلامۃ المفتی رشید احمد رحمہ اللہ تعالیٰ بان البیع یکرہ عند اذان مسجد الحیی ، لان الاجابۃ بالقدم انما تجب بہ و الظاہر انہ ھو الراجح و قد تعود بعض التجار انھم لایغلقون محلاتھم التجاریۃ بعد اذان الجمعۃ و یبررون عملھم بان اصحاب دکان واحد یتناوبون فی اداء صلوۃ الجمعۃ فی مساجد مختلفۃ فی اوقات مختلفۃ ، فلا تفوت الجمعۃ علیٰ احد منھم و الظاہر ان ھذا لایجوز و ذلک لانہ یمکن جمیع المشترین من عقد الشراء بعد الاذان ، حتی الذین لایجوز لھم ذلک لاخلالھم بالسعی الواجب فی حقھم و قد ذکر الفقہاء ان کل واحد من العاقدین یاثم فی ھذہ الصورۃ اھ (2/984)۔