کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں غیر ملک رہتا ہوں ،میرا بیٹا اسکول میں پڑھتا ہے ،ایک عیسائی لڑکی جو میرے بیٹے کی کلاس فیلو ہے ،وہ میرے بیٹے کو چاہتی ہے اور اب وہ چاہتی ہے کہ وہ اسلام قبول کرکے میرے بیٹے سے نکاح کرے ،اور باقی زندگی مسلمان اور میرے بیٹے کی بیوی بن کر گزارے ،تو کیا اسلام قبول کرنے کے بعد اس کا نکاح میرے بیٹے کے ساتھ درست ہو گا ؟
مذکور عیسائی لڑکی اگر اسلام قبول کرلیتی ہے تو اس کے ساتھ سائل کے بیٹے کا نکاح بلاشبہ جائز اور درست ہو گا،تاہم اسلام قبول کرنے میں شادی وغیرہ دیگر دنیاوی اغراض کو پیش نظر رکھنا قطعاً مناسب نہیں ،اس لئے مذکور لڑکی کو چاہیئے کہ اسلام جیسی نعمت کے حصول میں اغراض فاسدہ اور خواہشات نفسانیہ سے بچنے کی کوشش کرے ۔
کما فی صحيح البخاري : عمر بن الخطاب رضي الله عنه على المنبر قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول (إنما الأعمال بالنيات وإنما لكل امرىء ما نوى فمن كانت هجرته إلى دنيا يصيبها أو إلى امرأة ينكحها فهجرته إلى ما ھا جر إليه) (2/1)۔
و فی تحفة الأحوذي :(فهجرته إلى ما هاجر إليه) أي منصرفة إلى الغرض الذي هاجر إليه فلا ثواب له لقوله تعالى من كان يريد حرث الآخرة نزد له في حرثه ومن كان يريد حرث الدنيا نؤته منها وما له في الآخرة من نصيب أو المعنى فهجرته مردودة أو قبيحة اھ(5 /234)