نکاح

شادی کی غرض سے اسلام قبول کرنے والی عیسائی عورت سے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
68573
| تاریخ :
2023-10-17
معاملات / احکام نکاح / نکاح

شادی کی غرض سے اسلام قبول کرنے والی عیسائی عورت سے نکاح کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں غیر ملک رہتا ہوں ،میرا بیٹا اسکول میں پڑھتا ہے ،ایک عیسائی لڑکی جو میرے بیٹے کی کلاس فیلو ہے ،وہ میرے بیٹے کو چاہتی ہے اور اب وہ چاہتی ہے کہ وہ اسلام قبول کرکے میرے بیٹے سے نکاح کرے ،اور باقی زندگی مسلمان اور میرے بیٹے کی بیوی بن کر گزارے ،تو کیا اسلام قبول کرنے کے بعد اس کا نکاح میرے بیٹے کے ساتھ درست ہو گا ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور عیسائی لڑکی اگر اسلام قبول کرلیتی ہے تو اس کے ساتھ سائل کے بیٹے کا نکاح بلاشبہ جائز اور درست ہو گا،تاہم اسلام قبول کرنے میں شادی وغیرہ دیگر دنیاوی اغراض کو پیش نظر رکھنا قطعاً مناسب نہیں ،اس لئے مذکور لڑکی کو چاہیئے ‬کہ اسلام جیسی نعمت کے حصول میں اغراض فاسدہ اور خواہشات نفسانیہ سے بچنے کی کوشش کرے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی صحيح البخاري : عمر بن الخطاب رضي الله عنه على المنبر قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول (إنما الأعمال بالنيات وإنما لكل امرىء ما نوى فمن كانت هجرته إلى دنيا يصيبها أو إلى امرأة ينكحها فهجرته إلى ما ھا جر إليه) (2/1)۔
و فی تحفة الأحوذي :(فهجرته إلى ما هاجر إليه) أي منصرفة إلى الغرض الذي هاجر إليه فلا ثواب له لقوله تعالى من كان يريد حرث الآخرة نزد له في حرثه ومن كان يريد حرث الدنيا نؤته منها وما له في الآخرة من نصيب أو المعنى فهجرته مردودة أو قبيحة اھ(5 /234)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد قاسم حسین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 68573کی تصدیق کریں
0     610
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات