بسمہ تعالیٰ!مکرمی محترمی جناب مفتی صاحب السلام علیکم!
الحمد اللہ خیریت موجود، اور بار گاہِ الہی سے جنابِ والا کی عافیت مطلوب، درخواست ہے کہ موضع اکانوالی، تحصیل ہارون آباد، ضلع بہاولنگر میں قیامِ پاکستان سے مسجد واقع ہے (جامع مسجد اکانوالی) جس میں نمازِ جمعہ ادا نہ ہو رہی ہے، جس کے لئے فتویٰ / اجازت درکار ہے، مندر جہ ذیل احوال ہیں،
نمبر 1 ۔ اکانوالی میں جس کی آبادی تقریبا تیرہ سو (1300) افراد پر مشتمل ہے,
نمبر 2۔اکانوالی میں درجِ ذیل مواضعات جو کہ متصل ہیں,
1۔اکا نوالی خرد، 2۔ موضع سپر محمد،3۔موضع کرتار سنگھ
اکانوالی خرد میں یہ بقیہ دونوں مواضع ( موضع سپر محمد، موضع کرتار سنگھ ) چوک میں ملتے ہیں، یعنی متصل ہیں، علاوہ ازیں ایک اضافی بستی ملحقہ سخی پورہ فاصلہ تقریباً 1 کلومیٹر، آبادی 200 افراد پر مشتمل ہے ، علاوہ ازیں اضافی بستی آبادی تقریباً 400 افراد ملحقہ ہے، فاصلہ تقریبا 2 ایکڑ یعنی 1760 فٹ بنتا ہے،
سہولیات: دکانات 30 عدد، واپڈا کی مین لائن ، یعنی ہر گھر میں بجلی میٹر نصب ہے ، گوشت مرغی، دودھ، دہی، کپڑا، مٹھائی، ڈاکٹر، مڈل سرکاری اسکول 2 عدد، دکانات کریانہ متعدد، آٹا پسائی کرنے والی چکیاں، پیٹرول ایجنسیاں، سبزی کی دکانیں، درزی کی دکانیں،اور تمام سہولیاتِ زندگی کا سامان میسر ہے، جامع مسجد رکانوالی میں بجلی، پانی (گرم و تازہ برائے وضو ) میسر ہے، امام مسجد موجود ہے، تبلیغی جماعتوں کی آمد و خروج بھی ہے، نمازِ پنجگانہ با قاعدگی سے ادا ہوتی ہے-
دست بستہ التماس ہے کہ نمازِ جمعۃ المبارک کی ادائیگی کی اجازت مرحمت فرما دیں، کیونکہ نمازِ جمعہ کی ادائیگی کیلئے تقریباً 3میل کی مسافت پر ادا کرنے کیلئے جانا پڑتا ہے، اور اکثریت اس فریضہ کی ادائیگی سے محروم ہیں ، اللہ آپکو جزائے خیر عطا فرمائے۔
نوٹ: ڈاکخانہ اور ہسپتال موجود نہیں ہیں اور پولیس چو کی مذکور بستی میں تو موجود نہیں، البتہ قریب متصل بستی کی پولیس چوکی ہے , وہیں کے اہلکاریہاں کی پنچا ئیت وغیرہ حل کرتے ہیں۔
واضح ہوکہ "عند الاحناف" گاؤں اور دیہات میں جمعہ اور عیدین کی نماز صحیح نہیں ،جبکہ شہر اور قصبہ میں صحیح ہے،اور قصبہ کی تعریف ہمارے عرف میں یہ ہے کہ جہاں آبادی چار ہزار کے قریب یااس سے زیا دہ ہو ، وہاں ایسا بازار موجود ہو جس میں دوکانیں چالیس پچاس متصل ہوں ،اور بازار روزانہ لگتا ہو ، اس بازار میں ضروریات روز مرہ کی تمام اشیاء ملتی ہوں ،مثلاً جوتے کی دوکان ،کپڑے کی ،عطرکی ،درزی کی ،غلہ کی ،دودھ گھی کی،اور وہاں ڈاکٹر ،حکیم وغیرہ بھی ہوں ،اسی طرح وہاں ڈاکخانہ بھی ہو،اور پولیس کا تھانہ یا چوکی بھی ہو،اس کے ساتھ ساتھ اس میں مختلف محلے مختلف ناموں سے موسوم ہوں ،پس جس بستی میں یہ شرائط موجود ہوں ،وہاں جمعہ اور عیدین کی نماز درست ہوگی ورنہ نہیں ۔
جبکہ سوال میں ذکر کردہ تفصیلات پہ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکور گاؤں (اکانوالی) اور اس کے ساتھ متصل دیگر گاؤں کی آبادی کی مجموعی تعداد زیادہ ہونے کے باوجود قریۂ کبیرہ کیلئے مطلوبہ شرائط موجود نہ ہونے کی وجہ سے اس پر قریۂ کبیرہ کی تعریف صادق نہیں آتی ، اس لئے وہاں جمعہ کا قیام درست معلوم نہیں ہوتا، تاہم اس حوالے سے اگر مقامی علماء کرام کسی قریبی مستند دارالافتاء سے رجوع کرکے ان سے مشاورت کرلیں تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔ (ماخوذ از تبویب)
کما فی الدر المختار : باب الجمعة (و يشترط لصحتها) سبعة أشياء : الأول: (المصر و هو ما لا يسع أكبر مساجده أهله المكلفين بها) و عليه فتوىٰ أكثر الفقهاء مجتبى لظهور التواني في الأحكام و ظاهر المذهب أنه كل موضع له أمير و قاض يقدر على إقامة الحدود كما حررناه فيما علقناه على الملتقى الخ
و فی الرد : (قوله و ظاھر المذهب ) عن أبي حنيفةؒ أنه بلدة كبيرة فيھا سكك و أسواق و لها رساتيق و فيھا وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته و علمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث و هذا هو الأصح۔اھ (2/137)۔
و فی الھدایة : لاتصح الجمعة الا فی مصر جامع او فی مصلی المصر و لا تجوز فی القری(الی قوله) بل تجوز فی جمیع افنیة المصر لانھا بمنزلته فی حوائج اھله۔اھ (1/82)۔
و فیھا ایضاً : و من لاتجب علیھم الجمعة من اھل القری و البوادی لھم ان یصلوا الظہر بجماعة یوم الجمعة باذان و اقامة۔اھ (1/145)۔