ایک صاحب نے مجھے 80000 روپے زکوٰۃ کے دیے ہیں، کہ آپ آگے کسی ضرورت مند کو دیں گے، ان صاحب کی فیملی میں ان کی سالی غیر شادی شدہ ہے، اور اس کے والد صاحب کی وفات ہوچکی ہے، بھائی اوربہنیں شادی شدہ ہیں ، یہ صاحبہ چھوٹا موٹا گھر سے ہی کام کرتی ہیں ، اس کے بھائی کی نہایت محدود آمدنی ہے، اور یہ جوأنٹ فیملی میں رہتی ہیں، بھائی سب کا کھانا پینا کرتا ہے، انہیں اپنے علاج اور دیگر ضروریات کے لئے پیسوں کی ضرورت ہے، تو کیا میں یہ زکوۃ ان صاحب سے بغیر پوچھے ان خاتون کو دے سکتی ہوں؟ تاکہ وہ اپنی ضرورت پوری کرسکے ، برائے مہربانی اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں، جزاک اللہ خیراً۔
نوٹ: اس صاحبہ کی امی اور دادی سید ہیں، تو کیا انہیں زکوۃ دے سکتے ہیں ؟
واضح ہو کہ اولاد باعتبارِ نسب چونکہ اپنے والد کی طرف منسوب ہوتی ہے، اس لئے اگر مذکورعورت کا والد سید نہ ہو تو محض والدہ کے سید ہونے کی وجہ سے وہ سیدہ شمار نہ ہوگی، لہذا مذکور خاتون کے پاس اگر بقدرِ نصاب ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اسکی مالیت کے بقدر نقدی ، مال تجارت اور ضرورت اصلیہ سے زائد سامان وغیرہ موجود نہ ہو تو وہ مستحقِ زکوٰۃ ہے اور سائلہ کے لئے بحیثیتِ وکیل, زکوٰۃ کی رقم سے اس خاتون کو دینا شرعاً درست ہوگا ، نیز ایسا کرنے سے زکوٰۃ دینے والے کی زکوٰۃ بھی ادا ہوجائیگی۔
كما في الدر المختار : أي مصرف الزكاة ( إلى قوله ) (هو الفقير وهو من له ادنی شيئ أى دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة الخ ( باب المصرف، ج ۲ ، ص ۳۳۹ ، ط: سعيد) ۔
وفي الهندية، ولا يجوز دفع الزكاة الى من یملك نصاباً أي مال كان دنانیر اودراهم أو سوائم او عروضاً للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة هكذا في الزاهد اھ (ج ا ص ١8٩ ط: ماجدية )۔
وفی رد المحتار: تحت (قوله ويعضده) أي يقويه. (الی قولہ) ويؤخذ من هذا أن من كانت أمها علوية مثلا وأبوها عجمي يكون العجمي كفؤا لها، وإن كان لها شرف ما لأن النسب للآباء ولهذا جاز دفع الزكاة إليها فلا يعتبر التفاوت بينهما من جهة شرف الأم ولم أر من صرح بهذا والله أعلم(ج:3ص87،ط:سعید)
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0