السلام علیکم! میں USA میں رہ رہا ہوں اور میں اپنے گھر سے دفتر تک ہفتے میں 3 بار سفر کرتا ہوں ، اور گھر سے دفتر تک کا فاصلہ ایک طرف 75 میل ہے [راؤنڈ ٹرپ کے لیے 150 میل] ،میں نماز جمعہ کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں، دفتر میں کوئی مسجد نہیں ہے، اور مجھے دفتر سے مسجد جانے کے لیے بس استعمال کرنی پڑتی ہے ، وہ بھی بریک ٹائم میں صرف باہر جا کر واپس لوٹ سکتا ہوں [12:30 سے 1:30 PM] ۔
میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا مجھے مسافر سمجھا جاتا ہے یا مقیم؟ جیسا کہ میں نے پڑھا ہے کہ، اگر میں مسافر ہوں تو جمعہ کے بجائے صرف ظہر پڑھ سکتا ہوں، دوسرا ظہر اور عصر کی نمازوں کے لیے کیا مجھے عام رکعتیں پڑھنی ہیں یا قصر کی نماز پڑھنی ہے؟مجھے اجازت ملی ہے کہ، میں دفتر میں نماز پڑھنے کے لیے 10 منٹ کے لیے میٹنگ روم بک کر سکتا ہوں؟ براہ کرم میری الجھن کا جواب دیں ،میں بہت مشکور ہوں گا۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کا دفتر اگر دوسرے شہر میں ہو ،اور درمیانی فاصلہ مسافتِ شرعی ( سوا ستتر کلومیٹر ) یا اس سے زائد ہو (جیسا کہ سوال سے بظاہر یہی معلوم ہورہا ہے ) اور سائل نے اب تک اپنی جائے ملازمت میں پندرہ دن یا اس سے زائد ٹھہرنے کی نیت بھی نہ کی ہو ،تو ایسی صورت میں اپنے شہر کی حدود سے نکلنے کے بعد سائل مسافر شمار ہوگا، لہٰذا راستہ میں اور اپنی جائے ملازمت میں اپنی انفرادی نمازوں میں سائل پر قصر کرنا لازم ہوگا، جبکہ ایسی صورت میں سائل پر نماز جمعہ شرعاً لازم نہیں، لہٰذا اگر سائل نماز جمعہ کے بجائے ظہر پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے۔
کما فی الھدایۃ: وإذا فارق المسافر بيوت المصر صلى ركعتين " لأن الإقامة تتعلق بدخولها فيتعلق السفر بالخروج عنها الخ ( باب المسافر ج 1 ص 80 )۔
وفی البحر الرائق: (قوله من جاوز بيوت مصره مريدا سيرا وسطا ثلاثة أيام في بر أو بحر أو جبل قصر الفرض الرباعي) بيان للموضع الذي يبتدأ فيه القصر ولشرط القصر ومدته وحكمه أما الأول فهو مجاوزة بيوت المصر لما صح عنه - عليه السلام - «أنه قصر العصر بذي الحليفة» وعن علي أنه خرج من البصرة فصلى الظهر أربعا ثم قال: إنا لو جاوزنا هذا الخص لصلينا ركعتين والخص بالخاء المعجمة والصاد المهملة بيت من قصب كذا ضبطه في السراج الوهاج الخ (باب المسافر ج 2 ص 138 )۔
وفی رد المحتار تحت (قوله لئلا يعود على موضوعه بالنقض) ( الی قولہ ) (قوله لئلا يعود على موضوعه بالنقض) يعني لو لم نقل بوقوعها فرضا بل ألزمناه بصلاة الظهر لعاد على موضوعه بالنقض، وذلك لأن صلاة الظهر في حقه رخصة، فإذا أتى بالعزيمة وتحمل المشقة صح، ولو ألزمناه بالظهر بعدها لحملناه مشقة ونقضنا الموضوع في حقه وهو التسهيل. اهـ. ح.
قلت: فالمراد بالموضوع الأصل الذي بني عليه سقوط الجمعة هنا وهو التسهيل والترخيص الذي استدعاه العذر ومنه النظر للمولى في جانب العبد. قال في البحر لأنا لو لم نجوزها وقد تعطلت منافعه على المولى لوجب عليه الظهر فتتعطل عليه منافعه ثانيا فينقلب النظر ضررا (قوله: وفي البحر إلخ) أخذه في البحر من ظاهر قولهم: إن الظهر لهم رخصة فدل على أن الجمعة عزيمة، وهي أفضل إلا للمرأة لأن صلاتها في بيتها أفضل وأقره في النهر، ومقتضى التعليل أنه لو كان بيتها لصيق جدار المسجد بلا مانع من صحة الاقتداء تكون أفضل لها أيضا اھ ( باب الجمعۃ ج 2 ص 155 ط: سعید )۔