السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام کہ ہمارے گاؤں بلہگ بالا میں 180 مکان ہیں،اور 3 اسکول ہیں2 کلینک ہیں،جن میں تمام ٹیسٹ وغیرہ ہوتے ہیں اور 4 جنرل سٹور ضروریات زندگی کی ہر چیز باآسانی دستیاب ہے،باقی اتنا بڑا گاؤں ہے کہ داخلیات کی 7 مساجد ہیں،اور کل تقریباً 1400 آبادی بنتی ہے،آجکل نماز تراویح میں 130 نمازی ہوتے ہیں،نمازِ جمعہ کے لئے اکثر حضرات دوسرے گاؤں میں جاتے ہیں،ان تمام شرائط کی بنیاد پر یہاں جمعہ ہوسکتا ہے؟
واضح ہو کہ قیامِ جمعہ وعیدین کی شرائط میں سے یہ ہے کہ وہ جگہ شہر یا بڑے قصبہ میں ہو اور قصبہ کی تعریف ہمارے عرف میں یہ ہے کہ جہاں آبادی چار ہزار کے قریب یا اس سے زیادہ ہو اور ایسا بازار موجود ہو جس میں چالیس دوکانیں متصل ہو اور بازار روزانہ لگتا ہو اور اس بازار میں روزمرہ کی ضروریات ملتی اور پوری ہوتی ہو ں مثلاً جوتے کی دوکان بھی ہو اور کپڑے کی بھی،عطار کی بھی ہو،بزاز کی بھی،غلہ کی دوکان بھی ہواور دودھ،گھی کی بھی اور وہاں ڈاکٹر یا حکیم،معمار اور مستری بھی ہو وغیرہ وغیرہ اور وہاں ڈاکخانہ اور پولیس کا تھانہ یا چوکی بھی ہو اور اس میں مختلف محلے مختلف ناموں سے موسوم ہوں یا دیگر شرائط تو ہوں مگر اس کی آبادی کم ہو لیکن وہاں کے عرف میں اسے بڑا قصبہ شمار کیا جاتا ہو،پس جس بستی میں یہ شرائط موجود ہوں گے وہاں جمعہ صحیح ہوگا ورنہ صحیح نہ ہوگا،جبکہ سوال میں مذکور گاؤں میں بظاہر درجِ بالا شرائط کی موجودگی معلوم نہیں ہوتی،اس لئے ان شرائط کی عدمِ موجودگی میں وہاں جمعہ کا قیام درست نہ ہوگا۔
کما فی رد المحتار تحت (قولہ وظاھر المذھب الخ) قال في شرح المنية. والحد الصحيح ما اختاره صاحب الهداية أنه الذي له أمير وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود وتزييف صدر الشريعة له عند اعتذاره عن صاحب الوقاية حيث اختار الحد المتقدم بظهور التواني في الأحكام مزيف بأن المراد القدرة على إقامتها على ما صرح به في التحفة عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث وهذا هو الأصح اهـ (ج2 ص137 باب الجمعۃ ط: سعید)۔
وفی الفتاوى الهندية: (ولأدائها شرائط في غير المصلي) . منها المصر هكذا في الكافي، والمصر في ظاهر الرواية الموضع الذي يكون فيه مفت وقاض يقيم الحدود وينفذ الأحكام وبلغت أبنيته أبنية منى، هكذا في الظهيرية وفتاوى قاضي خان الخ (ج1 ص145 کتاب الصلوۃ،الباب السادس عشر فی صلوۃ الجمعۃ ط: ماجدیۃ)۔
وفی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: وأما الشرائط التي ترجع إلى غير المصلي فخمسة في ظاهر الروايات، المصر الجامع، والسلطان، والخطبة، والجماعة، والوقت الخ (ج1 ص259 کتاب الصلوۃ،فصل فی بیان شرائط الجمعۃ ط: سعید)۔