السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ! کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے مدرسہ میں طلباء کی رہائش کےلئے جگہ ناکافی ہے ، اب ہم چند کمرے بنوانا چاہتے ہیں ، لیکن کچھ مخیر حضرات ہیں جو زکوۃ کی رقم سےتعمیر کرنے کے خواہشمند ہیں ، جبکہ بلا واسطہ زکوۃ کی رقم سےتعمیر ناجائز ہے ، شرعی طور پر جو از کا کوئی حیلہ جس میں زکوۃ کی رقم کو " مدرسہ کی تعمیر اور دیگر اخراجات میں صرف کیا جاسکے ؟
(1) کیا یہ صورت تملیک کیلئے کافی ہے ؟ کہ " ہمارا ہر طالب علم داخلہ فارم پر کرتے وقت مہتمم صاحب اور اسکےنمائندے کو مکمل طور پر وکیل بنا کر ہر قسم کے اخراجات کی اجازت دیتے ہیں۔
(2) کیا چند طلباء کرام سے مال کی تملیک کروا کر ان سے واپس وصول کر کے اس رقم کو تعمیر میں لگانا جائز ہیں ؟
(3) طلباء پر ایک فیس مقرر کی جائے، پھر مہتمم صاحب زکوۃ کی رقم سے بطورِ وکیل یہ طے شدہ فیس جامعہ میں ادا کر سکتا ہے؟ از راہِ کرم شرعاً جو از کا کوئی حیلہ جس کے ذریعہ سے زکوۃ کی رقم کو مدرسہ کے دیگر اخراجات (کھانا، پینا، رہائش ، اورصحت وغیرہ) پر جائز طریقہ سے خرچ کیا جاسکے ۔ جزاکم اللہ خیراً
واضح ہو کہ زکاۃ کی رقم کسی مستحقِ زکاۃ شخص کو بلا کسی عوض باقاعدہ مالکانہ قبضے کے ساتھ حوالے کرنا لازم اور ضروری ہے اس کے بغیر شرعاً زکوۃ ادا نہ ہوگی ، لہذا سائل کے لئے بغیر کسی تملیک کے زکوۃ کی رقم مدرسے کی تعمیر میں لگانا شرعاً جائز نہیں ، تاہم اگر سائل زکوۃ کی رقم عاقل و بالغ اور مستحقِ زکوۃ طلباء کو باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ حوالے کردے، پھر وہ طلباء بغیر کسی دباؤ کے اپنے مرضی سے مدرسے کی تعمیر کے لئے وہ رقم سائل کے حوالے کردیں یا مدرسے کی طرف سے واقعی مقررہ فیس کی مد میں ان سے وہ رقم وصول کی جائے ، یا ابتداءً داخلے کے وقت عاقل و بالغ اور مستحقِ زکاۃ طلباء کرام اور ناسمجھ طلباء کرام کے مستحقِ زکاۃ اولیاء سے زکاۃ وصول کرنے اور مدرسے کی اخراجات میں صرف کرنے کی اجازت لی جائے تو ایسی صورت میں زکاۃ کی رقم مدرسے کی تعمیر میں خرچ کرنا جائز اور درست ہوگا ۔
كما في المحيط البرهاني في الفقه النعماني : والحيلة لمن أراد ذلك أن يتصدق بمقدار زكاته على فقير ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه فيكون لصاحب المال ثواب الصدقة ولذلك الفقير ثواب هذه القرب (كتاب الزكاة ، الفصل الثامن من المسائل المتعلقة بمن توضع الزكاة فيه ، ج ٢ . ص 282، ط : دار الكتب العلمية ، بيروت)-
و في الدر المختار : وقدمنا أن الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الأشياء ، و هل له أنه يخالف أمرہ لم أره والظاهر نعم ( باب المصرف ، ج ۲، ص ٣٤٥ ، ط : سعید)-
و في رد المحتار تحت ( قوله أن الحيلة) أي الدفع إلى هذه الأشياء مع صحة الزكاة ( قوله ثم يأمره ) و يكون له ثواب الزكاة والفقير ثواب هذه القرب الخ ( باب المصرف ، ج ٢ ، ص ٣٤٥ ، ط : سعيد)-
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0