ہمارے گاؤں" مرغیہ ٹولہ" کی کل آبادی مرد و زن، بالغ و نابالغ، مسلم و غیر مسلم ملاکر تقریباً پانچ ہزار ہے، کلینک، کپڑے کی دوکان اور کریانہ دوکان اور پانچ مساجد اور ایک مدرسہ ہے، نیز قریب کا بڑاقصبہ "ادھکپریا" ہے ، جہاں مدت سے جمعہ قائم ہے، اس کی آبادی سے ہمارے گاؤں "مرغیہ ٹولہ " کی آبادی متصل ہوگئی ہے، کیا ہم لوگ "مرغیہ ٹولہ "میں جمعہ کی نماز قائم کرسکتے ہیں، بینوا توجروا۔
واضح ہو کہ گاؤں میں جمعہ پڑھنا صحیح نہیں،قصبات میں صحیح ہے اور کسی جگہ کے گاؤں یا قصبہ اور شہر ہونے کی بنیاد عرف پر ہے ، قصبہ کی تعریف ہمارے عرف میں یہ ہے کہ جہاں آبادی چار ہزار کے قریب یا اس سے زیادہ ہو اور ایسا بازار موجود ہو جس میں چالیس، پچاس دکانیں متصل ہوں اور بازار روزانہ لگتا ہو او اس بازار میں ضروریات روز مرہ کی تمام اشیاء ملتی ہوں مثلاً جوتے کی دوکان بھی ہو، کپڑے کی بھی، عطار کی بھی ہو، بزار کی بھی، غلّے کی بھی ہو اور دودھ گھی بھی، اور وہاں ڈاکٹر حکیم بھی ہوں وغیرہ، اور وہاں ڈاکخانہ بھی ہواور پولیس تھانہ یا چوکی بھی، اور اس میں مختلف محلّے مختلف ناموں سے موسوم ہوں، پس جس بستی میں یہ شرائط موجود ہوں وہاں جمعہ صحیح ہوگا ورنہ صحیح نہ ہوگا، جبکہ سوال میں مذکور گاؤں کی جو تفصیل ذکر کی گئی ہے، اس سے بظاہر معلوم ہو رہا ہے کہ مذکور گاؤں ، شہر اور قصبہ کے حکم میں داخل نہیں، لہذا مذکور گاؤں میں جمعہ قائم کرنا درست نہ ہوگا، تاہم مذکور گاؤں کا قصبےکے ساتھ اتصال اور اس کے مضافات میں واقع ہونے یا نہ ہونے کے متعلق اگر مقامی اہل ِعلم کی رائے لی جائے تو مناسب ہوگا۔
كما فی الھدایة: " لا تصح الجمعة إلا في مصر جامع أو في مصلى المصر ولا تجوز في القرى " لقوله عليه الصلاة والسلام " لا جمعة ولا تشريق ولا فطر ولا أضحى إلا في مصر جامع " والمصر الجامع كل موضع له أمير وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود الخ (باب صلاة الجمعة ،ج۱ ص82، ط: دار احیاء التراث)۔
وفی بدائع الصنائع:- أما المصر الجامع فشرط وجوب الجمعة وشرط صحة أدائها عند أصحابنا حتى لا تجب الجمعة إلا على أهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا في المصر وتوابعه فلا تجب على أهل القرى التي ليست من توابع المصر ولا يصح أداء الجمعة فيها (الیٰ قوله) أما المصر الجامع فقد اختلفت الأقاويل في تحديده ذكر الكرخي أن المصر الجامع ما أقيمت فيه الحدود ونفذت فيه الأحكام، وعن أبي يوسف روايات ذكر في الإملاء كل مصر فيه منبر وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود فهو مصر جامع تجب على أهله الجمعة، وفي رواية قال: إذا اجتمع في قرية من لا يسعهم مسجد واحد بنى لهم الإمام جامعا ونصب لهم من يصلي بهم الجمعة، وفي رواية لو كان في القرية عشرة آلاف أو أكثر أمرتهم بإقامة الجمعة فيها، وقال بعض أصحابنا: المصر الجامع ما يتعيش فيه كل محترف بحرفته من سنة إلى سنة من غير أن يحتاج إلى الانتقال إلى حرفة أخرى، وعن أبي عبد الله البلخي أنه قال: أحسن ما قيل فيه إذا كانوا بحال لو اجتمعوا في أكبر مساجدهم لم يسعهم ذلك حتى احتاجوا إلى بناء مسجد الجمعة فهذا مصر تقام فيه الجمعة، وقال سفيان الثوري: المصر الجامع ما يعده الناس مصرا عند ذكر الأمصار المطلقة، وسئل أبو القاسم الصفار عن حد المصر الذي تجوز فيه الجمعة فقال: أن تكون لهم منعة لو جاءهم عدو قدروا على دفعه فحينئذ جاز أن يمصر وتمصره أن ينصب فيه حاكم عدل يجري فيه حكما من الأحكام، وهو أن يتقدم إليه خصمان فيحكم بينهما.
وروي عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمه وعلمه أو علم غيره والناس يرجعون إليه في الحوادث وهو الأصح الخ (ج1، ص 260، ط: دار الکتب العلمیہ) ۔