میں ایک بیوہ خاتون اور انکی دو بچیوں کی کفالت پچھلے ۸ سالوں سے کر رہا ہوں، ان کے بھائی انکے ساتھ کافی زیادتی کرتے ہیں،اور مارتے بھی ہیں، ۴ سال قبل بھائیوں نے بہت تشدد کیا تو میں چلا گیا خاتون کی کال آنے پر، وہاں معاملہ بہت خراب تھا ،مجھ سے پوچھا گیا تم کون تو میں نے خاتون کو بچانے کے لئے کہ دیا میں انکا شوہر، انہوں نے یقین نہیں کیا جس پر میں نے کہا اگر یقین نہیں تو میں ابھی کہ دیتا ہوں یہ مجھے قبول ہے، صرف ایک بار، اس وقت وہاں لڑکی کے دو بھائی، والدہ اور ایک بہن تھی، میری نکاح کی کوئی نیت نہیں تھی اور نا ہے ، میں خود بھی شادی شدہ ہوں، خیر معاملہ ٹھنڈا ہوگیا اور میں واپس آگیا، میاں بیوی کے کوئی حقوق کوئی تعلق نہیں ہے، سوائے اسکے کہ میں اُن بچیوں کا مستقبل بہتر چاہتا ہوں، مجھے اس واقعے کی شرعی حیثیت بتادیں۔
سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق اگر باقاعدہ ایجاب وقبول نہ ہوا ہو بلکہ فقط سائل نے غصے کی حالت میں یہ کہہ دیا تھا کہ میں اس کا شوہر ہوں یا یہ مجھے قبول ہے، تو اس سے شرعاً نکاح منعقد نہیں ہوا، تاہم سائل کو چاہیے کہ مذکور خاتون کے بھائیوں کے سامنے اپنی اس بات کی تردیداور وضاحت کرے تاکہ آئندہ کے لئے ممکنہ غلط فہمیوں سے بچا جاسکے، جبکہ سائل کا ایک بیوہ خاتون اور اس کی بچیوں کے ساتھ تعاون کرنا تو باعث اجر وثواب ہے، لیکن اس کے لئے سائل کو مذکور خاتون اور ان بچیوں کے اولیاء کو اعتماد میں لیکر اور ان کے علم میں لاکر تعاون کرنا چاہیے، تاکہ کسی قسم کی بدگمانیوں اور شکوک وشبہات کی نوبت پیش نہ ہو۔
کما فی الدرالمختار: ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لوحاضرين،وإن طال الخ (ج3ص14 کتاب النکاح ط سعید)۔
وفیہ ایضاً: (و) شرط (حضور) شاهدين(حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا)الخ ( ج3 ص 22 کتاب النکاح ط سعید)۔
وفی الھندیہ: يصح التوكيل بالنكاح، وإن لم يحضره الشهود، كذا في التتارخانيةالخ ( ج 1س 194 الباب السادس فی الوکالۃ بالنکاح وغیرھا ط ماجدیہ)۔
وفی اعلاء السنن: عن أنی ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ قال: قال رسول اللہﷺ ثلاث جدھن جد وھزلھن جد ، النکاح والطلاق والرجعۃ (ج11 ص 216 کتاب الطلاق ط دارالکتب العلمیۃ)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قوله: وشرط حضور شاهدين) أي يشهدان على العقد،(الی قولہ) أشار بقوله فيما مر ولا المنكوحة مجهولة إلى ما ذكره في البحر هنا بقوله: ولا بد من تمييز المنكوحة عند الشاهدين لتنتفي الجهالة، فإن كانت حاضرة منتقبة كفى الإشارة إليها والاحتياط كشف وجهها.(الی قولہ) والحاصل أن الغائبة لا بد من ذكر اسمها واسم أبيها وجدها، وإن كانت معروفة عند الشهود على قول ابن الفضل، وعلى قول غيره يكفي ذكر اسمها إن كانت معروفة عندهم، وإلا فلا وبه جزم صاحب الهداية في التجنيس وقال لأن المقصود من التسمية التعريف وقد حصل وأقره في الفتح والبحر. وعلى قول الخصاف يكفي مطلقا، ولا يخفى أنه إذا كان الشهود كثيرين لا يلزم معرفة الكل بل إذا ذكر اسمها وعرفها اثنان منهم كفى والظاهر أن المراد بالمعرفة أن يعرفها أن المعقود عليها هي فلانة بنت فلان الفلاني لا معرفة شخصها، وإن ذكر الاسم غير شرط، بل المراد الاسم أو ما يعينها مما يقوم مقامه لما في البحر: لو زوجه بنته ولم يسمها وله بنتان لم يصح للجهالة بخلاف ما إذا كانت له بنت واحدة إلا إذا سماها بغير اسمها ولم يشر إليها فإنه لا يصح كما في التنجيس. اهـ.الخ (ج2 ص21 کتاب النکاح ط سعید)۔
وفی خلاصۃ الفتاوی: وفی الفتاوی رجل وامراۃ اقرا بالنکاح بین یدی الشھود وقالا بالفارسیۃ مازن وشوئیم لاینعقد النکاح بینھما ھوالمختار الخ (ج2 ص4 کتاب النکاح ط رشیدیہ)۔