کیا فرماتےہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسماۃ"منہاز" نے اپنے بھانجے مسمیٰ محسن کو اپنا دودھ پلایا تھا،اس وقت بچہ کی عمر تقریباً چھ ماہ تھی،اب محسن کے چھوٹے بھائی عامر کیلئے مسماۃ منہاز کی بیٹی کائنات سے نکاح کرنا جائز ہے،جبکہ عامر نے اپنی خالہ کا دودھ نہیں پیا تھا۔
صورتِ مسئولہ میں مسماۃ منہاز کی بیٹی کا عقدِ نکاح مسمیٰ محسن کے چھوٹے بھائی عامر کے ساتھ بلاشبہ جائز ہے،بشرطیکہ کوئی اور وجہ حرمت کی موجود نہ ہو۔
کما فی مشکوة المصابیح: عن عائشة قالت: قال رسول اللہ ﷺ یحرم من الرضاعة مایحرم من الولادة (1/273)۔
و فی الدر المختار: (فيحرم منه) أي بسببه (ما يحرم من النسب) رواه الشيخان (الیٰ قوله) (إلا أم أخيه وأخته) (و) قس عليه (أخت ابنه) وبنته (وجدة ابنه) وبنته اھ(3/313)۔