السلام علیکم ،شوہر اولاد پیدا کرنے کے قابل نہیں ،علاج کے بعد ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہے،شوہر کی عمر 40 سال جبکہ بیوی کی عمر 36 سال ہے۔اولاد نہ ہونے کی وجہ سے بیوی تکلیف میں ہے،صرف adoption ہی واحد حل ہے کیا حکم شریعت ہوگا؟
سائلہ کا سال واضح نہیں ہے کہ وہ adoption کے بارے میں کیا سوال کرنا چاہ رہی ہے تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم adoption کے بارے میں عمومی حکم یہ ہے کہ کسی بچہ کو گود لینا اور اس کی پرورش اور تربیت کرنا شرعاً جائز ہے، لیکن اس پرورش کرنے کی وجہ سے وہ اس گود لینے والے کا حقیقی بیٹا اور وارث نہیں بن جاتا، بلکہ وہ اپنے حقیقی والدین کا ہی بیٹا اور وارث ہوتا ہے، چنانچہ لے پالک کی ولدیت کو حقیقی والد کی طرف منسوب کرنے کے بجائے گود لینے والے کی طرف منسوب کرنا یا قانونی کاغذات وغیرہ میں ولدیت کے خانے میں اپنا نام لکھوانا شرعاً جائز نہیں، اسی طرح اگر گود لینے والے اور بچے کے درمیان محرمیت کا رشتہ نہ ہو تو بالغ ہونے کے بعد اس سے پردہ کرنا بھی لازم ہوگا، چنانچہ ان احکامات کی رعایت رکھتے ہوئے بچہ گود لینے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔
قال اللہ تعالی : وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ (سورۃ الاحزاب آیۃ 4)۔
کما فی التفسير المظهري: فلا يثبت بالتبني شىء من احكام البنوة من الإرث و حرمة النكاح و غير ذلك اھ (7/283)۔
وفی رد المحتار تحت قولہ (الاقرار بالولد الخ) قال ـ علیہ الصلوٰۃ والسلام ـ حین نزلت آیۃ الملاعنۃ (الی قولہ) وفي الصحیحین عنہ ـ علیہ الصلوٰۃ والسلام ـ (من ادعی أبا فی الإسلام غیر أبیہ وہو یعلم أنہ غیر أبیہ فالجنۃ علیہ حرام)۔ الخ (ج۳، ص493 مطلب الحمل يحتمل كونه نفخا باب لعان ط سعید)۔
وفی الدر المختار: (وتتم) الھبۃ (بالقبض) الکامل (ولو الموھوب شاغلا لملک الواھب لا مشغولا بہ) والاصل ان الموھوب ان مشغولا بملک الواھب منع تمامھا وان شاغلا لا الخ(کتاب الھبۃ ج6 ـ 691-690 ط: سعید)۔