السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دو بھائی ہیں، ان میں ایک کی اولاد ہے اور دوسرے کی اولاد نہیں ہے، تو صاحب اولاد بھائی نے اپنا ایک بیٹا اور ایک بیٹی اپنے دوسرے بھائی کو دیدیے ، تو اب اس کے متعلق چند سوالات کے جوابات مطلوب ہیں :
پہلا سوال یہ ہے کہ ان لے پالک اولاد کی شریعت میں کیا حیثیت ہے، آیا لے پالک اولاد پالنا جائز ہے یا نہیں ؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ یہ لے پالک اولاد اپنے حقیقی والد کے ترکہ میں حصہ دار ہونگے یا جس کی تربیت اور پرورش میں ہے، اس کے ترکہ میں یا دونوں کے ترکہ میں ؟
تیسرا سوال یہ ہیکہ دونوں بھائیوں نے اپنا کاروبار(آپس میں باقاعدہ طے کیا) اس طریقے سے تقسیم کیا کہ یہ لے پالک اولاد آپ کے یعنی چچا کی وراثت میں شریک ہونگے، نہ کہ والد کے، جبکہ لڑکی یہ دعوی کر رہی ہے کہ مجھے والد اور چچا دونوں کے ترکہ میں حصہ دیا جائیگا، آیا اس لڑکی کا یہ دعوی درست ہے یا نہیں؟
چوتھا سوال یہ کہ اس بھائی نے جس کی اولاد نہیں ہے، اپنی تمام جائیداد اپنے لے پالک بیٹے کے نام کردی ہے، آیا یہ جائز ہے یا نہیں؟ جبکہ اس بھائی کے دیگر اپنے ورثاء یعنی بھائی بہن وغیرہ موجودہیں ، آیا اس جائیداد کو اپنے اس بیٹے کے نام کرنے سے ان کی حق تلفی تو نہیں؟
پانچواں سوال یہ ہے کہ کیا یہ دونوں بھائی اپنی جائیداد اپنی زندگی میں کسی کے حوالہ کر کے ان میں تقسیم کر سکتے ہیں یا اُنہیں بطورِ ہبہ دیکر انہیں مالک بناسکتے ہیں یا نہیں؟
نیز ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ اولاد ان دونوں بھائیوں کی زندگی میں ان سے ان کی جائیداد کی تقسیم کا مطالبہ کرسکتے ہیں یا نہیں؟ اور ان کے جائیداد میں سے اپنا وراثتی حصہ ان کی زندگی میں مانگ سکتے ہیں یا نہیں؟ براہ کرم ان تمام سوالات کے جوابات دیکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں، جزاک اللہ خیراً۔
(3,2,1) واضح ہو کہ کسی بچہ کو گود لینا اور اس کی پرورش اور تربیت کرنا شرعاً جائز ہے، لیکن اس پرورش کرنے کی وجہ سے وہ اس گود لینے والے کا وارث نہیں بن جاتا، بلکہ وہ اپنے حقیقی والدین کا ہی وارث ہوتا ہے، اور بالغ ہونے کے بعد اس سے پردہ ایسا ہی لازم ہوگا جیسا کہ دیگر اجانب سے ہوتا ہے، ، نیزلے پالک کی ولدیت کو حقیقی والد کی طرف منسوب کرنے کے بجائے اپنی طرف منسوب کرنا یا قانونی کاغذات وغیرہ میں ولدیت کے خانے میں اپنا نام لکھوانا شرعاً جائز نہیں جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے، چنانچہ صورتِ مسئولہ میں جس بھائی نے اپنے بھتیجے اور بھتیجی کو گود لیا ہے تو وہ اپنے چچا کی وراثت کے حقدار نہیں بنے اور نہ ہی چچا کی زندگی میں یا انکے انتقال کے بعد انہیں مطالبے کا شرعاً حق حاصل ہے -
(4) لے پالک (منہ بولا بیٹا) چونکہ شرعاً پرورش کرنے والے مرد وعورت کی وراثت میں حق دار نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپنے حقیقی والدین کا وارث ہوتا ہے، تاہم اگر اپنی زندگی میں ہی کوئی چیز اس کو گفٹ دے کر اس پر اسے باضابطہ مالک و قابض بھی بنادے تو اس سے وہ چیز شرعاً بھی اس کی ملک ہوجائیگی، لہذا مذکور شخص کا قصد و ارادہ اگر اپنے بھائی کو محروم کرنے اور انہیں ایذاء پہنچانے کا نہ ہو تو اس کے لئے حالتِ صحت میں اپنا تمام مال و جائیداد اپنے لے پالک بیٹے بیٹی کو دینا جائز اور درست ہے، مذکور شخص کے بھائی کو اس پر اعتراض کرنے کا حق حاصل نہیں -
(5) واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سےقبل اپنے تمام مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ جس طرح چاہے اس میں جائز تصرف کر سکتا ہے، اس کے ذمہ اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان مال و جائیداد تقسیم کرنا شرعاً لازم نہیں ، اور نہ ہی کسی بیٹے یا بیٹی کو اس میں حصہ داری کے مطالبے کا حق حاصل ہے، لہذا مذکور دونوں بھائیوں کے ذمہ بھی اپنا مال و جائیداد اپنی اولاد اور ورثاء میں تقسیم کرنا لازم نہیں، اور نہ ہی ان کی بیویوں اور اولاد میں سے کسی کو ان سے حصے کے مطالبے کا حق حاصل ہے، البتہ اگر مذکور دونوں بھائی اپنی مرضی سے بلا کسی جبر و اکراہ اپنا مال و جائیداد اپنی اولاد اور ورثاء وغیرہ میں تقسیم کرنا چاہیں تو انہیں اس کا اختیار ہے، مگر یہ تقسیمِ ترکہ نہیں، بلکہ ہبہ (گفٹ) کہلائے گا، جس کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ مذکور بھائی اپنی بقیہ زندگی کے لئے محتاط اندازہ کے مطابق جو کچھ رکھنا چاہے، وہ رکھ کر اور اپنی بیوی کو جو کچھ دینا چاہے، وہ دیکر بقیہ مال وجائیداد اپنی تمام اولاد و ورثاء کے درمیان برابر تقسیم کر کے ہر ایک کو اس کے حصہ پر باقاعدہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے ، تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعاً بھی درست اور تام ہوجائے، محض کاغذات میں نام کردینا یا زبانی کلامی دینا کافی نہیں ، پھر بہتر اور افضل یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں سب کو برابر اور یکساں رکھے، کسی کو کم کسی کو زیادہ نہ دے کہ سب ہی اس کی ا ولاد ہیں، تاہم اگر وہ اپنی اولاد میں سے کسی کو اس کی خدمت گزاری، محتاجگی یا دینداری وغیرہ کی وجہ سے دوسروں کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو شرعاً اس کی بھی اجازت ہے، مگر بلا وجہ کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکلیہ محروم نہ کرے کہ یہ گناہ ہے۔
قال اللہ تعالی : وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ (سورۃ الاحزاب آیۃ 4)۔
کما فی التفسير المظهري: فلا يثبت بالتبني شىء من احكام البنوة من الإرث و حرمة النكاح و غير ذلك اھ (7/283)۔
وفی رد المحتار تحت قولہ (الاقرار بالولد الخ) قال ـ علیہ الصلوٰۃ والسلام ـ حین نزلت آیۃ الملاعنۃ (الی قولہ) وفي الصحیحین عنہ ـ علیہ الصلوٰۃ والسلام ـ (من ادعی أبا فی الإسلام غیر أبیہ وہو یعلم أنہ غیر أبیہ فالجنۃ علیہ حرام)۔ الخ (ج۳، ص493 مطلب الحمل يحتمل كونه نفخا باب لعان ط سعید)۔
وفی الدر المختار: (وتتم) الھبۃ (بالقبض) الکامل (ولو الموھوب شاغلا لملک الواھب لا مشغولا بہ) والاصل ان الموھوب ان مشغولا بملک الواھب منع تمامھا وان شاغلا لا الخ(کتاب الھبۃ ج6 ـ 691-690 ط: سعید)۔
و فی المجلۃ الاحکام :کل یتصرف فی ملکہ کیفما شاء لکن اذا تعلق حق الغیر بہ فیمنع بہ اھ(1/230)۔
وفی الھندیۃ: لا يثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في فصول العمادية.الخ(ج4 ص378 [الباب الثاني فيما يجوز من الهبة وما لا يجوز] کتاب الھبۃ ط ماجدیۃ)۔
و فی بدائع الصنائع: وینبغی للرجل أن یعدل بین أولادہ فی النحلی لقولہ سبحانہ وتعالی "إن اللہ یأمر بالعدل والإحسان (إلی قولہ) ولأن فی التسویۃ تألیف القلوب والتفضیل یورث الوحشۃ بینھم فکانت التسویۃ أولی ولو نحل بعضاً وحرم بعضاً جاز من طریق الحکم لأنہ تصرف فی خالص ملکہ لاحق لأحد فیہ الخ (کتاب الھبۃ فصل واما الشرائط بانواع ج6 صـ 127 ط: سعید)۔
والدین کا علم نہ ہونے کی صورت میں بچہ کی ولدیت کے خانہ میں کس کا نام لکھا جائے؟
یونیکوڈ لے پالک کے احکام 0