السلام علیکم! ایک مسئلہ کی شریعت کی رو سے وضاحت درکار ہے ، ایک عورت نے اپنے کزن سے نکاح سے پہلے ناجائز تعلقات رکھے ، جسکی وجہ سے حمل ٹھہر گیا ،انکو معلوم نہیں ہوا ، اور اب وہ بچہ نو ماہ کا ہے ، پیدائش قریب ہے وہ عورت جسکا بچہ ہے وہ اسکو ضائع کرنا یا ماردینا چاہتی ہے، عزت کی خاطر، وہ ناجائز بچہ اس مزنیہ عورت سے ایک اجنبی عورت لے کر پالنا چاہتی ہے ، تو براہِ کرم یہ بتا دیں کہ وہ اجنبی عورت اس بچے کو لے کر پال سکتی ہے ؟ اور اس اجنبی عورت پر کوئی گناہ تو نہیں ہو گا ؟ اور اس بچے کا کیا حکم ہوگا ؟ اس بچے کی رضاعت کیسے ثابت ہوگی ؟ اس مز نیہ عورت سے اگر بیٹا یا بیٹی ہے، تو اس اجنبی عورت اور مرد دونوں کے لئے کیا حکم ہے ؟ کیا وہ باپ اور ماں کا نام اسے دے سکتے ہیں ؟ رہنمائی فرمائیں اگر آج ہی تحریری طور پر مل جائے تو نوازش ہوگی ۔جزاک للہ
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق مذکور عورت کا اپنے کزن سے ناجائز تعلقات رکھنا شرعاً ناجائز و حرا م تھا ،جس کی وجہ سے وہ دونوں سخت گناہ گار ہوئے ہیں، ان پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ سے بصدقِ دل توبہ و استغفار کریں ، اور آئندہ اس سے مکمل اجتناب کرنے کا پختہ عزم بھی کریں ، لیکن اب ناجائز تعلقات سے ٹھہرنے والے حمل پر چونکہ نو ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے ،اس لئے مذکور عورت کے لئے حمل کو ضائع کرانا یا مار دینا شرعاً ناجائز و حرام ہے ،جس سے احتراز لازم ہے ، جبکہ بچے کی پیدائش کے بعد اگر کوئی اجنبی عورت اس بچے کو گود لینا چاہتی ہو ،تو اس میں شرعاً کوئی حرج اور ممانعت نہیں ، بلکہ جائز ہے ،اور اس صورت میں اس اجنبی عورت پر کوئی گناہ بھی نہ ہوگا ، البتہ مذکور اجنبی عورت اور اس کے شوہر کے لئے بچے کے کاغذات میں بطورِ والدین اپنا نام درج کرانا شرعاً جائز نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے ،تاہم بطورِ سرپرست اپنا نام درج کرایا جا سکتا ہے ۔
جبکہ مذکور بچہ چونکہ اجنبی مرد وعورت کا حقیقی بچہ نہ ہوگا ،اس لئے بلوغت کے بعد اس سے پردہ کرنا بھی لازم ہوگا ، البتہ لڑکی ہونے کی صورت میں اگر شوہر کی بہن اور لڑکا ہونے کی صورت میں بیوی کی بہن اسے مدتِ رضاعت میں دودھ پلا دے ، تو ایسی صورت میں وہ بچہ ان کا رضاعی بھانجا ،بھانجی بن جائے گا، جس کے بعد اس سے پردہ کرنا لازم اور ضروری نہ ہوگا ۔
کما قال اللہ تعالیٰ : وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَ سَاءَ سَبِيلًا (32) وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا فَلَا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ إِنَّهُ كَانَ مَنْصُورًا (بنی اسرائیل :32،33) ۔
و فی مقامِ آخر : ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَ مَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَ لَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَ كَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا۔(الاحزاب ،ایۃ:5)
و فی صحیح البخاری : عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال النبي صلى الله عليه و سلم: «لا يزني الزاني حين يزني و هو مؤمن، و لا يشرب الخمر حين يشرب و هو مؤمن، و لا يسرق حين يسرق و هو مؤمن، و لا ينتهب نهبة، يرفع الناس إليه فيها أبصارهم حين ينتهبها و هو مؤمن»،(3/136) ۔
و فی الدر المختار : و يكره أن تسقى لإسقاط حملها، و جاز لعذر حيث لا يتصور الخ
و فی الشامیۃ : (قوله و يكره إلخ) أي مطلقا قبل التصور و بعده على ما اختاره في الخانية اھ (6/429) ۔
و فی الھندیۃ : العلاج لإسقاط الولد إذا استبان خلقه كالشعر و الظفر و نحوهما لا يجوز و إن كان غير مستبين الخلق يجوز اھ(5/356).
والدین کا علم نہ ہونے کی صورت میں بچہ کی ولدیت کے خانہ میں کس کا نام لکھا جائے؟
یونیکوڈ لے پالک کے احکام 0