میرے بچے نہیں ہیں، اور اپنے حقیقی بھتیجے کو گود لیا ہے، جو میرا محرم ہے، میں نے اس کے حقیقی والد کا نام دستاویزات میں لکھا ہے، اور خاندان ، دوستوں اور معاشرے کے سامنے صحیح اور حقیقی والد ہونے کا اعلان کیا ہے، کیا اسلام ایسے بچے کو پالنے اور تعلیم دینے کی اجازت دیتا ہے؟
اگر یہ بات واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو کہ سائلہ نے دستاویزات میں ولدیت کے خانے میں اپنے لے پالک بھتیجے کے حقیقی والد کا نام لکھا ہو، اور خاندان، دوستوں اور معاشرے میں بھی اس کے حقیقی والدکا اعلان کیا ہو تو سائلہ کا اپنے بھتیجے کی پرورش کرنا اور تعلیم دلوانا جائز ہے، بلکہ باعث اجر وثواب ہے۔
کما قال اللہ تعالٰی: وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ (4) ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا (5) سورۃ الاحزاب)۔
وفی احکام القرآن: کان من مزعومات الجاھلیۃ (الی وقولہ) ان الرجل اذا تبنی ولد غیرہ صار ملحقاً ببنیہ، واجرت علیہ سائر احکام البنوۃ من المیراث والحرمات، وکان ھذا تغییر شرائع اللہ سبحانہ وتعالٰی من عند انفسھم الخ (ج3 صـ389)۔
وصحیح البخاری: عن سعد رضي الله عنه، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: «من ادعى إلى غير أبيه، وهو يعلم أنه غير أبيه، فالجنة عليه حرام» الحدیث (ج8 صـ156 ط: دار طوق النجاۃ )۔
والدین کا علم نہ ہونے کی صورت میں بچہ کی ولدیت کے خانہ میں کس کا نام لکھا جائے؟
یونیکوڈ لے پالک کے احکام 0