کیا کوئی شخص اپنی اولاد نہ ہونے پر لے پالک بچے کو اپنی ساری جائیداد اپنی زندگی میں اس کے نام کر دے جب کہ بھائی حیات ہوں اور ان کی رضامندی بھی شامل نہ ہو , شرعی حکم بھائیوں کے لئے کیا ہوگا, اور لے پلک ساری جائیداد لے سکتا ہے اور پیسہ بھی ?
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے پہلے اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ اس میں جس طرح تصرف کرنا چاہے ،کر سکتا ہے، اس کے ذمہ اپنی جائد اد اپنی اولاد اور رشتہ داروں وغیرہ کے درمیان تقسیم کرنا شرعا لازم نہیں، اور نہ ہی اس میں کسی رشتہ دار کے لئے حصہ داری کا دعوی کرنا درست ہے، لہذا مذکور شخص کے ذمہ بھی اپنی جائیداد اپنے رشتہ داروں کے درمیان تقسیم کرنا شرعاً لازم نہیں ، اور نہ ہی مذکور شخص کے بھائیوں میں سے کسی کو جائیداد میں سے حصہ داری کے مطالبے کاحق حاصل ہے،لہذا مذکور شخص کا قصدو وارادہ اگر اپنے بھائیوں کو محروم کرنے اور انہیں ایذا ء پہنچانے کا نہ ہو تو اس کے لئے اپنا تمام مال وجائیداد اپنے لے پالک بیٹے کو دینا جائز اور درست ہے، مذکور شخص کے بھائیوں کو اس پر اعتراض کرنے کا حق حاصل نہیں ، البتہ بہتر اور افضل یہ ہے کہ قرابت اور رشتہ داری کا لحاظ رکھتے ہوئے ایک محتاط اندازے کے مطابق اپنی بقیہ زندگی کے لئے جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر اپنے لے پالک بیٹےکو بقیہ سارا مال و جائیداد دینے کے بجائے اپنے بھائیوں کو بھی کچھ دے ،تاکہ ان کی دلجوئی ہوسکے۔
کما فی الفتاوی الھندیۃ :لا يثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية.اھ(1/378)۔
و فیھا ایضاً :و منها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض اھ(4/374)۔
و فی المجلہ الاحکام :کل یتصرف فی ملکہ کیفما شاء لکن اذا تعلق حق الغیر بہ فیمنع بہ اھ(1/230)۔
والدین کا علم نہ ہونے کی صورت میں بچہ کی ولدیت کے خانہ میں کس کا نام لکھا جائے؟
یونیکوڈ لے پالک کے احکام 0