کسی کی اولاد کو لے کر پالنا، اسکی شادی کرانا، پھر بعد میں اس کا ابو کی جائیداد میں کوئی حصہ بنتا ہے کہ نہیں؟
کسی کی اولاد کولیکر پالنا، اور اس کی شادی تک کے اخراجات برداشت کرنا، نہ صرف جائز بلکہ بڑے اجر کی بات ہے، مگر کسی کو گود دینے کی وجہ سے وہ حقیقی اولاد کی طرح نہیں بنتا، لہٰذا لَے پالک اولاد شرعاً پرورش کرنے والے کی میراث میں حصہ دار نہ ہوگی، بلکہ اپنے حقیقی ماں باپ کی وارث ہوگی، البتہ اگر پرورش کرنے والا شخص اپنی صحت والی زندگی میں اپنی مرضی و خوشی سے لے پالک اولاد کو جائیداد میں سے کچھ دیکر اس پر اسے باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دے دے تو اس سے وہ اس جائیداد کی مالک بن جائے گی، اور ایسا کرنا شرعاً بھی جائز ہوگا۔
کما فی الدر المحتار: والثالث اما اختیاری وھو الوصیۃ او اضطراری وھو المیراث وسمی فرائض لان اللہ تعالٰی قسمہ بنفسہ واوضحہ وضوح النھار بشمسہ۔ الخ (ج۶، ص٧٥٨) واللہ اعلم بالصواب
والدین کا علم نہ ہونے کی صورت میں بچہ کی ولدیت کے خانہ میں کس کا نام لکھا جائے؟
یونیکوڈ لے پالک کے احکام 0