میں نے ایک دو سال کا بچہ ایدھی والوں سے گود لیا ہے، لاوارث ہے، والدین کا کچھ معلوم نہیں، اب سوال یہ ہے کہ (۱) بچے کو ہم والدین کی جگہ اپنا نام دے سکتے ہیں یا نہیں؟ (۲) نہیں تو پھر والدین کی جگہ کس کا نام لکھیں؟ کیا لاوارث لکھ دیا جائے؟
ایسے لاوارث بچے کے نام کے ساتھ ولدیت کے خانہ میں اپنا نام لکھوانا جائز نہیں، البتہ قانونی دستاویزات وغیرہ میں ولدیت کے خانہ میں آدم یا عبد اللہ لکھنے کی گنجائش ہے۔
لما فی قولہ تعالٰی: ادعوھم لاٰبآئھم ھو اقسط عند اللہ فان لم تعلموا اٰبآئھم فاخوانکم فی الدین۔ الآیۃ (سورۃ الحزاب: ٥)
وفی صحیح البخاری: سمعت النبی ﷺ یقول من ادعی الٰی غیر ابیہ وھو یعلم انہٗ غیر ابیہ فالجنۃ علیہ حرام۔ (ج٢، ص٥٣٣) واللہ اعلم بالصواب
والدین کا علم نہ ہونے کی صورت میں بچہ کی ولدیت کے خانہ میں کس کا نام لکھا جائے؟
یونیکوڈ لے پالک کے احکام 0