میں اپنی ماں کی اکلوتی اولادتھی ، میری ماں نے میری پیدائش کے کافی سال بعد اپنے ماموں کی بیٹی کو جو کہ چھ مہینےیا سال کی تھی ، اس کو گود لے کر بیٹی بنا کر اور بہت محبت کے ساتھ پالا ،وہ بھی میری ماں سے بہت محبت کرتی تھی ، میری ماں نے اپنی زندگی میں ہی جائیداد ہم دونوں میں برابر تقسیم کی تھی ، ہم دونوں کے والدین کا انتقال ہوچکا ہے، اب مسئلہ یہ ہے کہ اس کو عمرے پر جانے کے لئےشناختی کارڈ بنوانا ہے ، اور اس میں اپنے آپ کو میری ماں کی سگی بیٹی ظاہر کرنا ہے ، جس کے لئے میری گواہی درکار ہیں ، دلائل قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت فرمایئے کہ میرا نادرا میں جا کر اس قسم کی گواہی دینا درست ہے یا نہیں ؟
واضح ہو کہ بچہ کی ولدیت حقیقی والدین کے بجائے غیر کی طرف منسوب کرنا یا قانونی کا غذات وغیرہ میں حقیقی والدین کے بجائے پرورش کرنے والے کا نام لکھنا شرعاً ناجائز وحرام اور گناہِ کبیرہ ہے ، جس پر قرآن وحدیث میں بہت سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، لہذا سائلہ کے لئے نادرا آفس جاکر غلط بیانی کرنا یا اس کی گواہی دینا شرعاً ناجائز وحرام اور گناہِ کبیرہ ہے ، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے ۔
قال اللہ تعالیٰ : ادعوھم لاٰبآئھم ھو اقسط عند اللہ الآیۃ (سورۃ الاحزاب ایہ 5 )۔
وقال ایضاً :و ھو الذی خلق من الماء بشراً فجعلہ نسباً وصھراً وکان ربک قدیرا الآیۃ (سورۃ الفرقان ایہ 54 ) ۔
وفی صحیح البخاری : عن سعد :قال سمعت النبی ﷺ یقول من ادّعی إلی ٖغیر أبیہ وھو یعلم أنّہ غیرُ أبیہ فالجنۃ علیہ حرام (ج 4 ص2972 باب من ادعی إلی غیر أبیہ ط البشریٰ )۔
وفی الھندیہ :قال اصحابنا لثبوت النسب ثلاث مراتب (الاولی ) النکاح الصحیح (الی قولہ ) والحکم فیہ انّہ یثبت النسب من غیر دعوۃ ولا ینتفی بمجرد النفی وانّما ینتفی باللعان فان کانا ممن لالعان بینھما لاینتفی نسب الولد (ج 1 ص 536 الباب الخامس عشر فی ثبوت النسب ط ماجدیہ)۔
و فی مسند أبی داود الطیالسی : حدثنا أبو داود قال،حدثنا شعبۃ عن عبید اللہ، عن انس ، قال سُئل رسول اللہ ﷺ عن الکبائر فقال الإشراک باللہ وعقوق الوالدین وقتل النفس وشھادۃ الزور أو قول الزّور (ج 5 ص 549 رقم 2188 ط دارھجر مصر )۔
والدین کا علم نہ ہونے کی صورت میں بچہ کی ولدیت کے خانہ میں کس کا نام لکھا جائے؟
یونیکوڈ لے پالک کے احکام 0