السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے ایک طلاقِ یافتہ عورت سے شادی کی، جس کی ایک بیٹی تھی پہلے شوہر سے، جو اس کے ساتھ ہی میں نے قبول کی اور اسے اپنا نام دیا ولدیت بھی دی، ابھی کچھ ٹائم پہلے اس بچی کےوالد کا انتقال ہو گیا ، میری بیوی کے پہلے شوہر سے شادی کے وقت اس کی عمر پوری نہ ہونے کی وجہ سے اس کا شناختی کارڈ نہیں بنا تھا جس وجہ سے اس بچی کا وہاں اندراج نہیں ہوا تھا ،اب اس بچی کا شناختی کارڈ میرے نام پر بنا ہوا ہے اور اسکی تعلیمی اسناد پربھی میرا نام ہے اب کچھ بندوں کا کہنا ہے کہ اس بچی کا نام اس کےوالد کے نام پر اس کا شناختی کارڈ ہونا چاہیئے ، آپ سے گزارش ہے رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ کسی بھی لے پالک بچے کو اپنی طرف منسوب کرنا اور اس سے متعلقہ سرکاری یا غیر سرکاری دستاویزات میں بجائے اس کے حقیقی والدکے اپنا نام درج کروانا شرعاً جائز نہیں ، لہذاصورتِ مسؤلہ میں سائل پر لازم ہے کہ وہ بچی سے متعلقہ تمام دستاویزات بشمول شناختی کارڈ میں حقیقی والد کا نام درج کرائے ورنہ وہ سخت گناہ گار ہو گا۔
کما قال اللہ تعالی: وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ الآیۃ (آیتـ 4 سورۃ الاحزاب)
و قال اللہ تعالی: اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىٕهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ الآیۃ (آیتـ 5 سورۃ الاحزاب)
و فی صحیح البخاری: عن سعد قال سمعت النی ﷺ یقول من ادعی إلی غیر أبیہ وھو یعلم أنہ غیر أبیہ فالجنۃ علیہ حرام (باب من ادعی إلی غیر أبیہ ج2 صـ 533 )
وفی روح المعانی: قولہ تعالی (ادعوھم لابائھم) أی أنسبوھم إلیھم وخصوھم بھم أخرج الشیخان والترمذی والنسائی وغیرھم عن ابن عمر رضی اللہ عنہ أن زید ابن حارثۃ مولی رسول اللہ ﷺ ما کنا ندعوہ إلا زید بن محمد حتی نزل القرآن (ادعوھم لابائھم) فقال النبی ﷺ أنت زید بن حرثۃ بن سراحیل (ج12 صـ 147 )
والدین کا علم نہ ہونے کی صورت میں بچہ کی ولدیت کے خانہ میں کس کا نام لکھا جائے؟
یونیکوڈ لے پالک کے احکام 0