مسئلہ یہ ہے کہ میں نے ایک بچی گود لی تھی اور اس کو اپنی بہن کا دودھ پلا کر محرم بھی کر لیا ہے،اب میں اس کا نکاح کرنا چاہتا ہوں تو آپ بتائیں کہ ویسے تو اس کے نام کی ولدیت میں اپنا نام رکھا ہے،نکاح کے وقت ولدیت کے خانہ میں اس کے باپ کا نام لکھواؤں یا اپنا ہی نام لکھواؤں،مجھے کچھ لوگوں نے کہاہے کہ اگر نام یا والد کے نام میں اپنا نام استعمال کروں تو نکاح حرام ہوجاتا ہے،مجھے بتائیں کہ کیا کرنا چاہیئے ؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور بچی کے کاغذات اور نکاح فارم وغیرہ میں ولدیت کے خانے میں اس کے حقیقی والد کا نام لکھنا ضروری ہے،اس میں سائل کا اپنا نام لکھنا جائز نہیں،جس سے احتراز لازم ہے،تاہم سائل بطور"سرپرست" اپنا نام لکھوائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: ادعوھم لآبائھم ھو أقسط عند اللہ (الأحزاب:4 الآیة)
والدین کا علم نہ ہونے کی صورت میں بچہ کی ولدیت کے خانہ میں کس کا نام لکھا جائے؟
یونیکوڈ لے پالک کے احکام 0