کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بہن نے ایک لے پالک لڑکا لیا تھا ، اور میری چھوٹی بہن کی بیٹی سے اس کی شادی ہوئی ،اور اس کے دو بیٹے بھی ہیں ،اب وہ لڑکا نان ونفقہ پورا نہیں کرپاتا ،جس کی وجہ سے وہ طلاق دینے کیلئے بھی تیار ہے ، اب سوال یہ ہے کہ طلاق یا خلع کی صورت میں ا س لے پالک کا میراث میں کوئی حصہ ہوگا یا نہیں ؟ کیونکہ جس گھر میں وہ دونوں رہتے ہیں وہ میرے والد صاحب نے میری بہن کو دیا تھا ، تو کیا طلاق یا خلع کی ہونے کے بعد وہ لے پالک اس گھر میں حصہ دار ہو گا یا نہیں ؟
سائل کے والد نے ا پنی زندگی میں اگر مذکور گھر اپنی بیٹی (سائل کی بہن ) کو باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ دے دیا ہو تو ایسی صورت میں یہ ہبہ تام ہو چکا ہے ،اور سائل کی بہن مذکور گھر کی مالک بن چکی ہے ،چنانچہ اب مذکور مکان بلا شرکت غیر کےشرعاً اس کی ملکیت شمار ہوگی ،لیکن لے پالک (منہ بولا بیٹا ) چونکہ شرعاً پرورش کرنے والے مرد و عورت کی وراثت میں حق دار نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپنے حقیقی والدین کا وارث ہوتا ہے اس لئے صورتِ مسئولہ میں مذکور لے پالک سائل کی بھانجی کو طلاق دے یا نہ دے، بہر صورت وہ سائل کی بہن کی میراث میں شرعاً حصہ دار نہ ہوگا۔
کما فی التفسير المظهري: فلا يثبت بالتبني شىء من احكام البنوة من الإرث و حرمة النكاح و غير ذلك اھ (7/283)۔
و فی الدر المختار : (و تتم) الهبة (بالقبض) الكامل (و لو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) و الأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها اھ (5/690)۔
والدین کا علم نہ ہونے کی صورت میں بچہ کی ولدیت کے خانہ میں کس کا نام لکھا جائے؟
یونیکوڈ لے پالک کے احکام 0