کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرح متین اس مسئلہ میں میرے مامو ں نے ایک بچہ گود لیا ہے، بچی ان کی اہلیہ کے بھائی کی ہے اس بچی کا نام بھی رکھا بچی ایک سال کی ہے اور ماموں کی عمر اس وقت 62 سال کی ہے مامو ں نے اس بچے کو اپنا نام دیا ہے ۔قران اور حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرما عند اللہ ماجور ہوں ۔
واضح ہو کہ شریعتِ مطہرہ میں لے پالک اور منہ بولے بیٹے کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اور کسی کو منہ بولا بیٹا بنانے سے وہ حقیقی بیٹا نہیں بن جاتا اور نہ ہی اس پر حقیقی اولاد والے احکام جاری ہوتے ہیں، چنانچہ منہ بولے بیٹے کو حقیقی والد کے بجائے کسی اور شخص (پرورش کرنے والے)کی طرف منسوب کرنا شرعاً جائز نہیں ، احادیث مبارکہ میں اس پر سخت قسم کی وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہذاسائل کے ماموں کا اپنے لے پالک بیٹے کو اپنی طرف منسوب کرکےبچے کے کاغذات(documents) میں ولدیت کے خانے میں بطور والد اپنا نام لکھوانا شرعاً جائز نہیں ،بلکہ بچے کے کاغذات میں بطور والد اسکےحقیقی والد کا نام درج کرانالازم اور ضروری ہے،البتہ بچے کے کاغذات میں اپنا نام بطور سر پرست (guardian) لکھوا یاجاسکتا ہے۔
کما قال اللہ تعالی: ادعوھم لآبائھم ھو اقسط عند اللہ الایۃ(سورة الأحزاب،ایۃ5)۔
وفی صحیح مسلم: عن أبي ذرؓ، أنہ سمع رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم یقول: "لیس من رجل ادعی لغیر أبیہ، وہو یعلمہ إلا کفر، ومن ادعی مالیس لہ، فلیس منا ولیتبوأ مقعدہ من النار الحدیث(4 /1804)۔
والدین کا علم نہ ہونے کی صورت میں بچہ کی ولدیت کے خانہ میں کس کا نام لکھا جائے؟
یونیکوڈ لے پالک کے احکام 0