اسلام علیکم
محترم مفتی صاحب
میں اپنے بڑے بھائ کا نومولود بچہ گود لینا چاھتا ھو
جب کہ میری اپنی تین بیٹیاں ھیں۔سوال مرا یہ ھے کہ اس لے پالک بچے کا میری بچیوں سے غیر محرم کا ھو گاگااور اگر میری بیوی اس بچے کو اپنا شیر پلا دے تو کیا پھر بھی وہ میری بچیوں کیلئے غیر محرم ھو گا یا محرم راہنمائ فرمائیں۔شکریہ
سائل اپنے بھائی کے جس بچے کو گود لینا چاہتا ہے ، وہ بلوغت کےبعد سائل کی بیوی اور بچیوں کیلئے نامحرم شمار ہوگا ۔ تاہم اگر سائل کی بیوی اس کو مدت ِ رضاعت (دوسال کی عمر) میں دودھ پلا دے تو یہ سائل اور اس کی بیوی کا رضاعی بیٹا اور ان کی تمام اولاد کیلئے رضاعی بھائی بن جائےگا، پھر مذکور بچہ سنِ بلوغت کے بعد بھی سائل کی بیوی اور ان کی بیٹیوں کیلئے محرم ہوگا۔
کقولہ تعالیٰ: وإذا بلغ الأطفال منكم الحلم فليستأذنوا كما استأذن الذين من قبلهم… (سورۃ النور: ۵۹)۔
وقال تعالیٰ: وما جعل أدعياءكم أبناءكم ذلكم قولكم بأفواهكم… (سورۃ الاخزاب: ۴)۔
وفی الفتاویٰ الھندیۃ: يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولھما وفروعھما من النسب والرضاع جميعا حتى أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت رضيعا أو ولد لھذا الرجل من غير هذه المرأة قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت امرأة من لبنه رضيعا فالكل إخوة الرضيع وأخواته وأولادهم أولاد إخوته وأخواته وأخو الرجل عمه وأخته عمته وأخو المرضعة خاله وأختھا خالته اھـ(ج۱ ص۳۴۳ ماجدیہ)۔ واللہ اعلم بالصواب۔