السلام علیکم! زکوۃ کے حوالے سے میرے دو سوال ہیں، جن میں مجھے آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے، 1: میں ہر سال یکم رمضان کو زکوۃ دیتا ہوں، لیکن کسی کی مالی مدد کیلئے پیشگی بھی زکوۃ دے سکتا ہوں؟ 2: میں نے اپنے بھائی کو زکوۃ کے پیسے دیے تھے، لیکن اسے بتایا نہیں تھا کہ اسے احساس نہ ہو، لیکن اب وہ مجھے پیسے واپس کرتا ہے تو کیا وہ پیسے میں خود استعمال کرسکتا ہوں؟ زکوۃ دیتے ہوئے میرا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ مجھے وہ پیسے واپس چاہیئں۔
واضح ہو کے صاحب نصاب شخص پر قمری سال مکمل ہونے کے بعد ادائیگی زکوۃ لازم ہوتی ہے، تاہم اگر کوئی شخص قمری سال مکمل ہونے سے پہلے زکوۃ ادا کرنا چاہے تو ادا کرسکتا ہے، لہذا صورت میں سائل اگر رمضان سے پہلے زکوۃ ادا کرنا چاہے تو بھی ادا کر سکتا ہے، البتہ اس میں زکوۃ کی نیت کا ہونا ضروری ہے، جبکہ سائل کا بھائی اگر صاحب نصاب نہ ہو، اور نہ ہی سید ہو، تو اس کو زکوۃ دینا بلا شبہ جائز اور درست ہے، اور زکوۃ کی نیت سے اسے دی جانے والی رقم سے سائل کی زکوۃ بھی ادا ہوچکی ہے، اگرچہ اس کے بھائی کو زکوۃ کا علم نہیں تھا، چنانچہ سائل کیلئے اب زکوۃ کی مد میں دی جانے والی رقم اپنے بھائی سے واپس لینا درست نہیں، اور اگر سائل یہ رقم واپس لے لیتا ہے تو اسے زکوۃ کی نیت سے مصارف زکوۃ میں خرچ کرنا لازم ہوگا۔
کما فی الدر المختار: (و) لا إلی (غنی) یملک قدر النصاب فارغ عن حاجتہ الأصلیۃ الخ
وفی الشامیۃ تحت: (قولہ فارغ عن حاجتہ) قال فی البدائع قدر الحاجۃ ھو ما ذکرہ الکرخی فی مختصرہ (إلی قولہ) فإن کان لہ فضل عن ذلک تبلغ قیمتہ مائتی درھم حرم علیہ أخذ الصدقۃ الخ(باب المصرف، ج 2، ص 347، ط: سعید)۔
وفیہ أیضاً: (ولو عجل ذو نصاب) زکاتہ (لسنین أو لنصب صح) لوجود السبب الخ(باب زکاۃ الغنم، ج 2، ص 293، ط: سعید)۔
وفی الفتاوی الھندیۃ: والأفضل فی الزکاۃ والفطر والنذور الصرف أولاً الی الإخوۃ والأخوات ثم إلی أولادھم ثم إلی الاعمام والعمات ثم إلی أولادھم ثم إلی الاخوال والخالات ثم إلی أولادھم ثم إلی ذوی الأرحام ثم إلی الجیران ثم إلی أھل حرفتہ ثم إلی أھل مصرہ أو قریتہ کذا فی السراج الوھاج الخ(الباب السادس فی المصارف، ج 1، ص 190، ط: ماجدیۃ)۔
وفی البحر الرائق: (قولہ تملیک المال من فقیر مسلم غیرھاشمی ولا مولاہ بشرط قطع المنفعۃ عن المملک من کل وجہ للہ تعالی) لقولہ تعالی وآتوا الزکاۃ والایتاء ھو التملیک الخ(کتاب الزکاۃ، ج 2، ص 201، ط: ماجدیۃ)۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0