کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمیں کیمپ میں جمعہ کے قیام سے متعلق آپ کی رہنمائی درکار ہے،یہ ایک مائننگ پراجیکٹ ہے،تفتان بارڈر کے قریب،اصل شہر سے چار گھنٹہ کی دوری پر،ہمارے لئے یہاں پر باقاعدہ مسجد بنی ہوئی ہے،جہاں پانچ وقت جماعت کے ساتھ نماز ہوتی ہے،ایک مستند عالم امام مقرر ہے،اور تقریبا چھ سو پچاس کے قریب مزدور موجود ہیں،چند لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں جمعہ کی نماز نہیں ہوتی،آپ رہنمائی فرمائیں کہ اس مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھی جاسکتی ہے یا نہیں؟آپ کے جواب کا بہت شکریہ
واضح ہوکہ قرآن وسنت کی روشنی میں کسی جگہ صحتِ جمعہ کے لۓ شہر یا قصبہ اور بڑا گاؤں ہونا شرط ہے، جبکہ صورتِ مسئولہ میں مذکور مائننگ (کان کنی)نہ شہری علاقہ میں واقع ہے اور نہ ہی وہاں آبادی اور اہلِ شہر کی ضروریات اس سے متعلق ہیں، اس لۓ اس میں جمعہ کے دن قیامِ جمعہ کی بجائے نمازِ ظہر کی ادائیگی لازم ہے۔
کمافی الدر المختار: (ويشترط لصحتها) سبعة أشياء: الأول: (المصر وهو ما لا يسع أكبر مساجده أهله المكلفين بها) وعليه فتوى أكثر الفقهاء اھ (2/ 137)۔
وفي بدائع الصنائع : وأما الشرئط التی ترجع إلی غیر المصلی فخمسة فی ظاهر الروایات، المصر (اإلی قوله) اما المصر الجامع فشرط وجوب الجمعة ، وشرط صحة ادائها عند اصحابنا حتى لا تجب الجمعة الا على اهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه ، وكذا لا يصبح اداء الجمعة الا في المصر وتوابعه فلا تجب على أهل القرى التي ليست من توابع المصر ولا يصح اداء الجمعة فيها(اإلی قوله) ولنا ما روی عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «لا جمعة ولا تشريق إلا في مصر جامع»و عن علي رضی اللہ عنہ «لا جمعة، ولا تشريق، ولا صلاة فطر ولا أضحى، إلا في مصر جامع وکذا النبی صلی اللہ علیه وسلم کان یقیم الجمعة باالمدینة وما روی الإقامة حولها وکذا الصحابة رضی اللہ عنهم فتحوا البلاد وما نصبوا المنابر إلا فی الأمصار فکان ذلك إجماعاً اھ (۱/ ۲۵۹)۔