السلام علیکم ورحمۃ الله! حضرت ایک مسئلہ دریافت کرنا تھا کہ چند ایک وجوہات کی بنا پر بندہ تجدید نکاح کرنا چاہتا ہے، لیکن ہمارے علاقہ میں تعلیم کی کمی کی بناء پر لوگ اس مسئلے کو بالکل بھی نہیں سمجھ پاتے ہیں ،اور نہ ہی زوجہ محترمہ کو اتنی جلدی سمجھ آئے گی ؟ اور یہ اندیشہ بھی موجود ہے کہ کہیں لوگ بعد میں اس پر کوئی بڑا واویلا نہ کر ڈالیں، آپ حضرات اس کا کوئی آسان اور مختصر حل تجویز فرمائیں۔ دوسرا یہ کہ تجدید نکاح کے وقت اپنی زوجہ کو اس کے اسباب بتانا ضروری ہیں یا نہیں، خواہ وہ بائن کا مسئلہ ہو یا کوئی اور وجہ ؟ دوسرا میرا والد اور زوجہ کا بھائی گواہ بن سکتے ہیں کہ نہیں نکاح کے سلسلے میں؟ شکریہ
اگر سائل یا اس کی بیوی سے کوئی ایسا قول یا فعل سرزد نہ ہوا ہو، جس کی وجہ سے نکاح پر اثر پڑتا ہو تو سائل کے لیے تجدید نکاح کرنا کوئی ضروری نہیں، البتہ اگر کسی قول یا عمل کی وجہ سے تجدید نکاح کرانا ضروری ہو تو سائل کو چاہیے کہ دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں بیوی سے ایجاب و قبول کرلے، تو اس سے تجدید نکاح ہو جائے گا۔ چنانچہ اگر سائل کا نسبتی بھائی اور والد بطور گواہ موجود ہو ،اور ان کی موجودگی میں سائل ایجاب و قبول کرلے ،تو اس سے بھی نکاح منعقد ہو جائے گا۔
كما في حاشية ابن عابدين: (قوله وأولاده أولاد زنا) كذا في فصول العمادي، لكن ذكر في [نور العين] ويجدد بينهما النكاح إن رضيت زوجته بالعود إليه وإلا فلا تجبر، والمولود بينهما قبل تجديد النكاح بالوطء بعد الردة يثبت نسبه منه لكن يكون زنا اهـ (4/ 247)۔
و في الفتاوى الهندية: وينعقد بحضور من لا تقبل شهادته له أصلا كما إذا تزوج امرأة بشهادة ابنيه منها وكذا إذا تزوج بشهادة ابنيه لا منها أو ابنيها لا منه هكذا في البدائع والأصل في هذا الباب أن كل من يصلح أن يكون وليا في النكاح بولاية نفسه صلح أن يكون شاهدا ومن لا فلا كذا في الخلاصة ويشترط العدد فلا ينعقد النكاح بشاهد واحد هكذا في البدائع ولا يشترط وصف الذكورة حتى ينعقد بحضور رجل وامرأتين كذا في الهداية اھ (1/ 267)۔