کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں سائٹ ایریا میں ایک کمپنی میں ملازم ہوں ،جہاں چار نمازوں کی امامت کرتا ہوں اور فجر کی نماز نہیں ہوتی اور فی الحال نماز کمپنی کی بلڈنگ کے نیچے والے فلور میں بڑے مصلے پر ادا ہوتی ہے، کمپنی میں تقریباً 15 سو سے 2000 ہزار ورکر کام کرتے ہیں ،جن کی خواہش ہے کہ جمعہ کی نماز کا سلسلہ شروع ہوجائے اور کمپنی کے گیٹ سیکورٹی خدشات اور حفاظت کی بناء پر جمعے کی نماز کے دوران بند رہیں گے ،قریب میں کوئی بڑی مسجد نہیں ہے جہاں ورکر جاکر نماز جمعہ ادا کرسکیں ، اس لئے نمازیوں کو دور جانا پڑتا ہے اور آنے جانے میں کافی دقت ہورہی ہے، لہذا سیکورٹی خدشات کے پیش نظر بطور حفاظت کمپنی کے گیٹ بند ہوں اور فجر کی نماز ادا ہورہی ہو تو جمعہ کی نماز جائز ہے یا نہیں ؟ قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔
مذکورکمپنی چونکہ شہر کراچی میں واقع ہے، لہذا اگر" محض حفاظت کی غرض سے " کمپنی کے گیٹ بند کئے جائیں،اور کوئی وجہ نہ ہو تو ایسی صورت میں مذکور مقام پر نمازِ جمعہ کی ادائیگی جائز اور درست ہے، اگرچہ اس کمپنی میں ورکرز کے نہ ہونے کی وجہ سے نماز فجر کی جماعت نہ ہوتی ہو ۔
کما فی الدر المختار: تحت شروط الجمعة (و) السابع: (الإذن العام) من الإمام، وهو يحصل بفتح أبواب الجامع للواردين ،كافي فلا يضر غلق باب القلعة لعدو أو لعادة قديمة لأن الإذن العام مقرر لأهله وغلقه لمنع العدو لا المصلي، نعم لو لم يغلق لكان أحسن كما في مجمع الأنهر اھ وفی حاشية ابن عابدين: تحت (قوله: أو قصر) قلت: وينبغي أن يكون محل النزاع ما إذا كانت لا تقام إلا في محل واحد، أما لو تعددت فلا لأنه لا يتحقق التفويت كما أفاده التعليل تأمل اھ(2/ 152)۔